قومی

Save Waqf Conference:وقف کی لڑائی مسلمانوں کی نہیں، ہر ہندوستانی کی ہے: راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے کانفرنس میں کیا بڑا دعویٰ

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ تال کٹورہ انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ تحفظ اوقاف کانفرنس میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی لڑائی ہے. یہ لڑائی ظلم اور انصاف کی لڑائی ہے۔جو ہماری لڑائی میں ساتھ نہیں ہے، وہ ظالموں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی مل کر ہی لڑی جائے گی۔منوج جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پنکچر بنانے کی بات کرتے ہیں۔ان کو معلوم نہیں ہے کہ پنکچر کا ڈھکن مضبوط کرنا بھی جانتے ہیں۔منوج جھا نے کہا کہ میری پارٹی کے صدر لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو پوری طرح سے آپ کے ساتھ ہیں۔ہم سب مل کر اسی لڑائی کو جیتیں گے۔

قانون مسلمانوں کے خلاف: پرسنل لاء بورڈ

 وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت  ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف قانون بناکر حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو اجاگر کر دیا ہے، لیکن ہم اپنی پرامن لڑائی کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے نائب صدر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد، خواجہ اجمیری درگاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سرور چشتی، محمد سلیمان، صدر انڈین یونین مسلم لیگ، عیسائی رہنما اے سی مائیکل، محمد شفیع، نائب صدر ایس ڈی پی آئی، روی شنکر ترپاٹھی،سردار دیال سنگھ وغیرہ موجود تھے۔

مودی حکومت نے وقف قانون کو دی منظوری

قابل ذکر ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کو بنایا گیا تھا۔مختلف ریاستوں میں کئی میٹنگوں کے بعد 14 ترامیم کے ساتھ اس بل کو منظوری دی تھی۔جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا  میں  اس بل کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی مہر لگا دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔اس کے بعد مختلف تنظیموں اور کئی اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر سماعت جاری ہے۔حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اس قانون کے کچھ پہلوؤں پر سوال اٹھایا اور چند نکات کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ عدالت میں اب 5 مئی 2025 کو اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Pravasi Bharatiya Divas: کولکاتا میں سجے گا پرواسی بھارتیوں کا مہاکمبھ، پی ایم مودی کریں گے افتتاح

کانفرنس کی سب سے بڑی کشش پرواسی بھارتیہ سمان ایوارڈ ہوگا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو…

49 minutes ago

Delhi’s 135-year-old ‘Central Secretariat Library: 135 سال پرانی سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری ہٹانے کی تیاری؟ سپریم کورٹ نے لیا ازخود نوٹس

سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کی تاریخ 1891 سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے ابتدا میں ’امپیریل سیکریٹریٹ…

1 hour ago

Pakistan fast bowler Kainat Imtiaz: پاکستان کی تیز گیند باز کائنات امتیاز کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

کائنات نے گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی پاکستان کے لیے اہم کردار ادا…

3 hours ago