دارالحکومت دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک کثیر المنزلہ عمارت منہدم ہونے سے 3 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ اب تک 9 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ موقع پر پہنچنے والی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
11 افراد کو بچایا گیا: ریکھا گپتا
ریکھا گپتا نے ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے واقعے پر کہا کہ 11 افراد کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپتال جا رہی ہیں اور وہاں بچائے گئے تمام افراد کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کریں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اس حادثے کے لیے جو بھی ذمہ دار ہے، چاہے وہ عمارت کا مالک ہو یا کوئی افسر، اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
کھدائی کے دوران کھسک گیا ستون
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ عمارت پرانی تھی اور اس میں تعمیر و مرمت کا کام چل رہا تھا۔ بیسمنٹ میں کھدائی کی جا رہی تھی، جس کے باعث ایک ستون کھسک گیا اور پوری عمارت منہدم ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ عمارت کو پی جی (Paying Guest) کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور اس کے اندر بچے موجود تھے۔ تمام متعلقہ ایجنسیاں مسلسل امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔ ہماری اولین ترجیح ان بچوں کی جان بچانا ہے اور بچاؤ مہم اسی طرح جاری رہے گی۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ تمام افسران موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائی میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔
جنگی پیمانے پر جاری ہے بچاؤ مہم
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آر کے پورم کے ستیہ نکیتن میں واقع حادثے کے مقام پر تمام متعلقہ افسران کے ساتھ مل کر بچاؤ مہم کی باریک بینی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ تمام ایجنسیاں باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور تمام کوششیں متاثرین کو بحفاظت نکالنے پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ راحت اور بچاؤ کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔
متاثرین سے ملنے ایمس پہنچیں گی سی ایم ریکھا گپتا
موصولہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا متاثرین سے ملاقات کے لیے ایمس پہنچ رہی ہیں۔ اس کے بعد وہ آر کے پورم حادثے میں متاثر ہونے والے طلبہ سے بھی ملاقات کریں گی۔اس سے قبل ریکھا گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ آر کے پورم کے ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کا واقعہ انتہائی تشویش ناک ہے۔
متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی یقین دہانی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈی ڈی ایم اے، این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، دہلی پولیس، ایم سی ڈی، کیٹس (CATS) اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں جنگی پیمانے پر بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں۔
احتیاطی طور پر ساتھ والی عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ ملبے میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنے اور متاثرہ خاندانوں تک فوری مدد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام متعلقہ ایجنسیاں باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ہر شہری کی سلامتی اور بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شدید بارش سے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی درہم برہم، درخت اور مکانات گرنے سے…
شکاگو اوپن یونیورسٹی کا ساتواں کانووکیشن دہلی کے لی میریڈیئن ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اس…
مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر…
ہاتھی ماحولیاتی نظام یعنی ایکو سسٹم کو صحت مند اور متوازن رکھنے میں اہم کردار…
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔…
کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی زندگی میدان کے اندر جتنی دلچسپ ہوتی ہے، میدان…