قومی

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

ملک میں انتخابی شفافیت اور ای وی ایم بمقابلہ بیلٹ پیپر کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس کے ہریانہ انچارج سنجے دت نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر کو دہلی میں انڈیا اتحاد کی جانب سے ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے عنوان سے ایک بڑی ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس ریلی کا مقصد ووٹ دینے کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل میں جواب دہی کا مطالبہ کرنا ہے۔ سنجے دت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ریلی کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور آئندہ انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا مطالبہ نمایاں طور پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کے اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے اور ووٹوں کے فیصد میں غیر متوقع اضافے جیسے معاملات پر اب تک تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا ہے۔

گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

کانگریس رہنما نے کہا کہ ریلی میں انتخابی عمل سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے جائیں گے۔ ان کے مطابق، خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔ سنجے دت نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انتخابی عمل کس طرح انجام دیا جا رہا ہے اور ان کے سوالات کے جواب کون دے گا۔ انہوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی بھی حمایت کی۔

’یہ لڑائی آئین اور عوام کے حقوق کے تحفظ کی ہے‘

سنجے دت نے واضح کیا کہ ان کی لڑائی کسی مخصوص سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ آئین اور بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جانب سے عوام کو دیے گئے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے متعلقہ سوالات کے جواب دینے کے بجائے ذاتی تبصرے کیے۔ انہوں نے 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے مظاہرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف کانگریس کارکنان ہی نہیں، بلکہ عام لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔

ہریانہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی تیاری

یکم نومبر کو دہلی میں ہونے والی ریلی میں ہریانہ سے بھی بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عام لوگوں کے پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔ کانگریس اس ریلی کے ذریعے انتخابی شفافیت، ووٹ کے حق اور انتخابی عمل میں جواب دہی کے مطالبات کو مزید نمایاں کرنا چاہتی ہے۔ اس دوران یہ بھی بتایا گیا کہ 25 اکتوبر سے شروع ہونے والی ’چوپال تحریک‘ اب دہلی میں ہونے والی میگا ریلی کے بعد منعقد کی جائے گی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کی عدم شرکت کے بارے میں بھی وضاحت کی گئی۔ بتایا گیا کہ خراب صحت کی وجہ سے وہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India vs New Zealand: تلک ورما بنے ٹیم انڈیا کے ہیرو، بھارت نے پھر کیا کمال، نیوزی لینڈ کو ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…

1 hour ago

Delhi School Incident: دہلی کے اسکول میں دردناک واقعہ، بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول کیمپس میں لگائی آگ، موقع پر ہی موت

دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…

1 hour ago

Priti Adani Calls For Skilled Talent: بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت ضروری: پریتی اڈانی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور…

1 hour ago