قومی

Sambhal 2024 Violence: ’’سنبھل 2024 تشدد پہلے سے طے شدہ سازش تھا، پولیس کی گولی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی‘‘ عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں بڑا دعویٰ

لکھنؤ: اتر پردیش اسمبلی میں بدھ کے روز سنبھل میں نومبر 2024 میں پیش آئے تشدد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تشدد اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک پہلے سے منصوبہ بند سازش تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہنگامے میں ہونے والی اموات پولیس کی فائرنگ سے نہیں ہوئیں، جبکہ مشتعل افراد نے پولیس کے ہتھیار لوٹنے کی بھی کوشش کی تھی۔ یہ عدالتی کمیشن 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر پیش آئے تشدد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ تشدد اس وقت ہوا تھا جب عدالت کے حکم پر آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں شامل اس یادگار کا سروے کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ سروے سینئر وکیل وشنو شنکر جین کی درخواست پر کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد پہلے مندر تھی۔

تشدد کی منصوبہ بندی اور مقامی رہنماؤں کے کردار پر سوال

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے اور سروے کی مخالفت کے لیے تشدد کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ کمیشن نے سنبھل کے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق، ایم ایل اے اقبال محمود کے صاحبزادے سہیل اقبال، جامع مسجد انتظامیہ کے صدر ظفر علی اور سکریٹری مشہود علی فاروقی سمیت دیگر افراد کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد نے سروے کے خلاف ماحول بنایا، مسلم برادری کو بڑی تعداد میں مسجد پہنچنے کی اپیل کی اور لوگوں کو پتھر اور ہتھیار لے کر سروے روکنے کے لیے اکٹھا ہونے کی ترغیب دی۔

اشتعال انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام

کمیشن نے کہا کہ سروے سے متعلق عدالتی کارروائی کی حقیقی معلومات عوام سے چھپائی گئیں اور مسلم برادری میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ جامع مسجد کو منہدم کرنے یا اس پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے یہ باور کرایا گیا کہ اگر مزاحمت نہ کی گئی تو مسجد بھی ایودھیا کی طرح چھین لی جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 نومبر کی صبح بڑی تعداد میں لوگوں کو پیغامات بھیج کر ہتھیاروں اور پتھروں کے ساتھ مسجد پہنچنے کے لیے کہا گیا تاکہ سروے میں رکاوٹ ڈالی جا سکے اور پولیس و انتظامیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی کو مؤثر قرار دیا گیا

عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ضلع انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی کو حالات کے مطابق مؤثر اور تحمل پر مبنی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور ہجوم کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مناسب طریقے سے کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کے دوران ہجوم نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اہلکاروں کی مخالفت کی۔ عدالتی کمیشن کی اس رپورٹ کے اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد سنبھل تشدد کے معاملے پر سیاسی بحث مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Cricket Was Nana Patekar’s First Love: کرکٹ تھا نانا پاٹیکر کا پہلا پیار، وراٹ کوہلی کے بارے میں کہی تھی دل چھو لینے والی بات

نانا پاٹیکر مراٹھی فلموں میں بھی سرگرم رہے۔ ’نٹ سمراٹ‘ ان کی انتہائی مقبول اور…

20 minutes ago

PM Modi to Inaugurate 10th Edition of IMC: ایم مودی آج ’انڈیا موبائل کانگریس‘ کے 10ویں ایڈیشن کا کریں گے افتتاح

آئی ایم سی 2026 میں 9 بڑے شعبوں کو شامل کیا جائے گا، جن میں…

1 hour ago

White House Praises PM Modi-Trump Rrelationship: وائٹ ہاؤس نے بھارت کو امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی قرار دیا، پی ایم مودی اور ٹرمپ کے تعلقات کی بھی تعریف

بھارت اور امریکہ نے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور اسٹریٹجک معاملات…

2 hours ago

Delhi Air Quality: دہلی کی ہوا پھر ہوئی زہریلی، اکتوبر کا پہلا ہفتہ 3 سال میں سب سے زیادہ آلودہ، اوسط اے کیو آئی 171 ریکارڈ

مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…

11 hours ago