قومی

”جولوگ چڑھاوے کی چوری نہیں روک پائے، وہ پیپرلیک کیسے روک سکتے ہیں؟‘‘، پارلیمنٹ میں اکھلیش یادو مرکزی حکومت پربرسے

نئی دہلی: لوک سبھا میں پیپرلیک کی روک تھام سے متعلق لوک امتحان (ترمیمی) بل، 2026 پربحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ اکھلیش یادونے مرکزی حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے سے حکومت نے دراصل ایک وزیرکوہٹاکروزیراعظم کوسیاسی نقصان سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ اکھلیش یادونے ایوان میں کہا، “جب سابق وزیرتعلیم پارلیمنٹ پہنچے تواین ڈی اے کے اراکین نے ان کا استقبال کیا۔ ذرا سوچئے کہ انہیں کتنی بڑی راحت ملی ہوگی اوروہ کس بڑے بحران سے بچ گئے۔ ایک ‘پردھان’ کوہٹا کرآپ نے دراصل ‘پردھان منتری’ کوبچا لیا۔”

طلبا کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے تعلیمی نظام، امتحانات اوریونیورسٹیوں کے ڈھانچے کوکمزورکرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں، جس کے باعث نوجوانوں میں ناراضگی بڑھتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپرلیک معاملے کے بعد نہ صرف طلبہ متحد ہوئے بلکہ ان کے اہل خانہ نے بھی ان کا ساتھ دیا، جس سے احتجاج ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اکھلیش کے مطابق، آخرکاردنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کہلانے والی بی جے پی کوطلبا کے دباؤکے آگے جھکنا پڑا۔

اکھلیش یادو نے حکومت پرلگایا بڑا الزام

اکھلیش یادونے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں 20 سے زائد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام مندرمیں دیئے گئے چندے اورچڑھاوے میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا، “جوحکومت رام مندرکے چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگیوں کونہیں روک سکی، وہ پیپرلیک جیسے سنگین مسئلے پرکیسے قابوپائے گی؟” انہوں نے مزید کہا کہ جب تک نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی، ایسے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت اس لئے پیچھے ہٹی کیونکہ اس کے اپنے اراکین پارلیمنٹ بھی سیاسی نقصان سے خوفزدہ ہونے لگے تھے اورجب حکمراں جماعت کے اراکین پریشان ہوتے ہیں توحکومت پربھی دباؤبڑھ جاتا ہے۔

کرن رجیجو کا جواب، اکھلیش یادو کا پلٹ وار

اکھلیش یادوکی تنقید کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرکرن رجیجونے کہا، “بہترصورتحال کون سی ہے؟ وہ جس میں حکومت طلبا کی آوازسن کرپارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے، یا وہ جس میں احتجاج دبانے کے لئے ملک بھرمیں ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے؟” اس پراکھلیش یادونے جواب دیتے ہوئے کہا، “میں نے ایمرجنسی کا دورخود نہیں دیکھا، لیکن اس وقت جوکچھ ہوا تھا، اس کی جھلکیاں ہم نے قومی دارالحکومت دہلی میں دیکھی ہیں۔ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔ جس دن حکومت کی نیت صاف ہوجائے گی، امتحانی نظام بھی شفاف ہوجائے گا۔” انہوں نے آخرمیں کہا کہ جس طرح ایمرجنسی کے بعد ملک میں سیاسی تبدیلی آئی تھی، اسی طرح اب بھی تبدیلی آ کر رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

47 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

1 hour ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago