نئی دہلی : ملک کی نئی نسل یعنی جنریشن زیڈ اور جنریشن الفا اب اپنے بنیادی حقوق اور مسائل کو لے کر کھل کر آواز اٹھانے لگی ہے۔ اتر پردیش کے ہمیرپور، اتراکھنڈ کے کھٹیما اور راجستھان کے بانسواڑہ میں اسکولی بچوں کے احتجاج نے یہ دکھا دیا کہ نئی نسل اپنے مسائل کے حل کے لیے نہ صرف بیدار ہے بلکہ انتظامیہ سے جواب بھی مانگ رہی ہے۔ بچوں کے اس حوصلے کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی سراہا ہے۔سڑک کی خراب حالت، اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، ناقص کھانا اور گندگی جیسے مسائل پر طلبہ نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ ابھیجیت دیپکے نے بچوں کی ہمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے والے ان بچوں کو سلام ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آزادی کے تقریباً 80 سال بعد بھی اگر بچے اپنے اسکول تک پہنچنے کے لیے سڑک کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیا یہ کوئی بہت بڑی مانگ ہے؟دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ یہ کام کئی دہائیاں پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے 15 اگست کے موقع پر دیہی علاقوں کے بچوں اور اسکولوں کے لیے کام کرنے کا عزم کرنے کی اپیل بھی کی۔
اتر پردیش کے ہمیرپور میں چندوپور کے گنگوا کا ڈیرہ اور بچی کا ڈیرہ علاقوں کے طلبہ طویل عرصے سے سڑک نہ ہونے کی پریشانی کا سامنا کر رہے تھے۔ بارش کے موسم میں کیچڑ سے بھرے راستے پر اسکول جانا بچوں کے لیے خطرناک بن گیا تھا۔ اس مسئلے کے خلاف طلبہ اور مقامی افراد ترنگا ہاتھوں میں لے کر ضلع کلکٹریٹ پہنچے۔بچوں نے تقریباً 5 کلومیٹر پیدل مارچ کیا اور ضلع مجسٹریٹ کے مرکزی دروازے پر دھرنا دے دیا۔ موقع پر پہنچے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راکیش کمار نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر کے لیے محکمہ جنگلات سے این او سی حاصل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 81 لاکھ روپے کی لاگت سے پکی سڑک کی تعمیر جلد شروع کی جائے گی۔
خراب کھانے اور گندگی کے خلاف کھٹیما میں احتجاج
اتراکھنڈ کے کھٹیما میں سرکاری ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول کے چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً 400 طلبہ نے اسکول کی بدانتظامی کے خلاف احتجاج کیا۔ طلبہ نے ناقص کھانے، آلودہ پانی اور بیت الخلا میں پھیلی گندگی کے خلاف دھرنا دیا۔معاملہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی تک پہنچا تو انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول کی پرنسپل بھارتی یادو کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔
اساتذہ کی کمی پر بانسواڑہ میں اسکول کی تالا بندی
راجستھان کے بانسواڑہ ضلع کے کشل گڑھ واقع سرکاری اعلیٰ ثانوی اسکول بییاپاڑہ میں طلبہ نے اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے مطالبے پر اسکول کے مرکزی دروازے پر تالا لگا دیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے بھی طلبہ کی حمایت کی۔بلاک ایجوکیشن افسر موقع پر پہنچے اور اعلیٰ حکام سے بات چیت کے بعد فوری طور پر 6 اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کرائے۔ اس کے بعد طلبہ نے اسکول کا تالا کھول دیا۔تینوں واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئی نسل اپنے تعلیمی اور بنیادی مسائل کے لیے اب خاموش رہنے کے بجائے جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…