قومی

Saharanpur Masjid Demolition Dispute: سہارنپور مسجد تنازعہ: یوپی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کیا جواب، مسجد انتظامیہ کو تین ہفتے میں داخل کرنا ہوگا جواب

اتر پردیش کے سہارنپورکلکٹریٹ مسجد معاملے میں جمعرات کوالٰہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسجد کومنہدم کئے جانے کے خلاف دائرعرضی پراترپردیش حکومت اورضلع انتظامیہ نے اپنا جوابی حلف نامہ داخل کردیا ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے مسجد فریق کوجواب کا مطالعہ کرنے کے لئے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔ اب مسجد انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں اپنا جواب داخل کیا جائے گا۔ یہ تنازعہ سہارنپورکلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو منہدم کئے جانے سے متعلق ہے۔ حکام کے مطابق، تقریباً 315 مربع میٹرسرکاری زمین پرقائم اس ڈھانچے کو5 ستمبر2026 کوپولیس اورافسران کی موجودگی میں منہدم کیا گیا تھا۔

گزشتہ سماعت میں حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت

گزشتہ ستمبرمیں ہوئی سماعت کے دوران الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش حکومت کومسجد منہدم کیے جانے کوچیلنج کرنے والی عرضی پرتین ہفتوں کے اندرجوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس روہت رنجن اگروال نے مسجد انتظامیہ پرعائد تقریباً 6 کروڑروپئے کے جرمانے کی وصولی پرروک لگا دی تھی۔

سٹی مجسٹریٹ نے عائد کیا تھا 6.41 کروڑ روپئے کا جرمانہ

دراصل، اترپردیش پبلک پریمیسیز(ایویکشن اینڈ اَن آتھرائزڈ اکیوپنٹس) ایکٹ، 1972 کے تحت سٹی مجسٹریٹ نے 16 جولائی کوکلکٹریٹ احاطے میں واقع 315 مربع میٹررقبے پربنی مسجد کومنہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مسجد انتظامیہ پر6.41 کروڑروپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ مسجد انتظامیہ نے اس حکم کوضلع عدالت میں چیلنج کیا، لیکن ضلع جج نے 2 ستمبرکواپیل خارج کردی۔ اس کے بعد 5 ستمبرکوحکام نے مسجد کومنہدم کردیا۔

زمین کی ملکیت اور وقف جائیداد ہونے پربحث

گزشتہ سماعتوں کے دوران عرضی گزارکی جانب سے سینئروکیل آشیش کمارسنگھ نے دلیل دی تھی کہ جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کئے بغیرہی اسے خالی کرانے کا حکم جاری کردیا گیا۔ ان کے مطابق، جائیداد کے ریکارڈ میں واحد خان اوریعقوب خان کے نام درج تھے۔ اس عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل منیش گوئل نے کہا تھا کہ عرضی گزارکا موقف متضاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف عرضی گزارمسجد کوزمینداری جائیداد پر تعمیرشدہ بتا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے وقف جائیداد قراردے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کارروائی میں سنی سینٹرل وقف بورڈ کوفریق نہیں بنایا گیا۔

حکومت کا دعویٰ، کلکٹریٹ کچہری کے نام درج تھی جائیداد

منیش گوئل نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ متنازع جائیداد سرکاری ریکارڈ میں کلکٹریٹ کچہری کے نام درج تھی۔ ان کے مطابق، ابتدائی ریکارڈ میں واحد خان کا نام تھا، جبکہ بعد میں 1956 میں واحد خان، کلکٹریٹ کچہری اور یعقوب خان کے نام درج کئے گئے۔ انہوں نے مزید دلیل دی تھی کہ برطانوی دورمیں یہ زمین مرکزی حکومت کی ملکیت تھی اوربعد میں ریاستی حکومت کے پاس آگئی۔ دوسری جانب، عرضی گزارکا موقف تھا کہ مسجد وقف رجسٹر میں درج تھی اورحکام نے اس پہلوپرمناسب طورپرغورنہیں کیا۔ اب حکومت اورضلع انتظامیہ کے جوابی حلف نامے کے بعد مسجد فریق کواپنا جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے بعد معاملے میں آئندہ کارروائی ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

India ITME 2026: انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026، گریٹر نوئیڈا میں جمع ہوگی دنیا بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، 40 سے زائد ممالک کی شرکت

انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026 اس دسمبر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے جا رہا…

11 minutes ago

Jaanta Raja: چھترپتی شیواجی کے نعروں سے گونج اٹھا دہلی-این سی آر، غازی آباد میں عظیم الشان ڈرامہ ’جاناتا راجا‘ کا آغاز

سن سٹی میں 28 اکتوبر تک جاری رہے گا چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر…

39 minutes ago

Adani Group: اڈانی انرجی سولیوشنز کے دوسری سہ ماہی کے نتائج شاندار، EBITDA میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ

اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج…

44 minutes ago

انسٹاگرام پر آئیں سونیا گاندھی، خودنوشت ’Belonging: A Journey of Love‘ کی پہلی جھلک پیش—انہوں نے کیا لکھا ؟

کانگریس کی سینئر لیڈر نے انسٹاگرام پر اپنا اکاؤنٹ بنایا، 10 نومبر کو جاری ہوگی…

1 hour ago

Epstein File Controversy: ایپسٹین معاملے پر گرمائی سیاست، یوتھ کانگریس کا دہلی میں احتجاج، ہردیپ پوری کے استعفے کا مطالبہ

یوتھ کانگریس نے مرکزی حکومت پر لگائے سنگین الزامات، ادے بھانو چب کی قیادت میں…

2 hours ago