ممبئی: مہاراشٹر کے ممبرا علاقے کو ’ہرے رنگ میں رنگنے‘ سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم کی نوجوان کونسلر سحر شیخ کے بیان پر شروع ہوا سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے مسلسل تنقید کے درمیان اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان وارث پٹھان کے تازہ بیان نے ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کی کونسلر سحر شیخ نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ممبرا سیٹ سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ممبرا کو ’ہرے رنگ میں رنگ دیں گی‘۔ اس بیان کے منظر عام پر آتے ہی بی جے پی اور دیگر جماعتوں نے اسے فرقہ وارانہ قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض کیا۔ تنازعہ بڑھنے پر سحر شیخ نے بعد میں اپنے بیان پر معذرت بھی کر لی، تاہم معاملہ اس کے باوجود تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اس پورے معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سحر شیخ کے بیان کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو ہرے رنگ میں رنگ دیں گے۔ وارث پٹھان کے مطابق ہرا رنگ ان کی پارٹی کے جھنڈے کا رنگ ہے اور ہر سیاسی جماعت یہی چاہتی ہے کہ اس کا پرچم پورے ملک میں لہرائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی پارٹی اپنے نظریات اور پرچم کو عام کرنا چاہتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے۔
دوسری جانب مہاراشٹر اے آئی ایم آئی ایم کے صدر امتیاز جلیل نے بھی سحر شیخ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط معنی دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبرا ہی نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر کو ہرا بھرا کرنے کی بات ترقی اور خوشحالی کے تناظر میں کہی گئی تھی۔ امتیاز جلیل نے الزام لگایا کہ سحر شیخ پر سیاسی دباؤ بنایا جا رہا ہے اور ان کے بیان کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔
امتیاز جلیل نے مزید کہا کہ سحر شیخ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ’ہم ممبرا کی ترقی پر بات کریں گے۔ سحر نے جو بیان دیا ہے وہ پارٹی کا بیان ہے۔ ہم نے سحر سے کہا کہ ہم کسی بھی طرح سے معافی نہیں مانگنا چاہتے۔ اس نے جو کہا اس کا مطلب ہے سب کچھ ہرا ہے۔ کیا ‘ہرا’ رنگ کوئی دہشت گردی کا لفظ ہے؟‘۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ لوگ غنڈے اور گینگسٹر ہیں، سحر کے خلاف ایسا کہا جا رہا ہے جیسے کوئی دہشت گرد آ گیا ہو۔ واضح رہے کہ سحر شیخ کے بیان کے بعد مہاراشٹر سے لے کر قومی سطح تک سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بی جے پی نے اے آئی ایم آئی ایم پر سماج کو بانٹنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم اسے محض سیاسی رنگ قرار دے رہی ہے۔ وارث پٹھان کے تازہ بیان کے بعد ایک بار پھر یہ تنازع سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…
CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے…
پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں سے گزری ’نشہ مُکت پنجاب یاترا‘، بی جے پی…
بسولی میں ڈیوٹی تبدیل کرنے کے دوران بحث کے بعد 2009 بیچ کے ہیڈ کانسٹیبل…
جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر…