نئی دہلی : بھارتی موسیقی کی دنیا سے ایک انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ اپنی دلکش اور مسحور کن آواز سے چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک کروڑوں سامعین کے دلوں پر راج کرنے والی ممتاز پلے بیک سنگر ایس جانکی اماں ہفتے کے روز 88 برس کی عمر میں میسورو میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جنوبی بھارتی فلمی صنعت اور موسیقی کے حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں محبت سے “جنوبی ہند کی بلبل” بھی کہا جاتا تھا اور ان کی وفات کو بھارتی موسیقی کے ایک سنہری دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے ایس جانکی اماں کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر تعزیتی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس جانکی اماں کا انتقال موسیقی اور ثقافت کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے مطابق مختلف زبانوں میں گائے گئے ان کے نغمے کئی نسلوں کے درمیان یکساں مقبول رہے اور انہوں نے اپنی آواز کے ذریعے ہر جذبے کو نہایت خوبصورتی اور مہارت سے پیش کیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ان کی سریلی آواز آنے والے برسوں تک موسیقی کے شائقین کو مسحور کرتی رہے گی۔ انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ، مداحوں اور موسیقی کی پوری برادری سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آتما کے لیے پرارتھنا بھی کی۔
ایس جانکی اماں 23 اپریل 1938 کو آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں پیدا ہوئی تھیں۔ بچپن ہی سے انہیں موسیقی سے غیر معمولی لگاؤ تھا اور کم عمری میں ہی ان کی گائیکی نے سب کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ صرف 18 برس کی عمر میں انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے گائیکی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی، جس نے ان کے فنی سفر کی مضبوط بنیاد رکھی۔انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز تمل گیت “ودھیین ولایٹو” سے کیا، لیکن بہت جلد تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور دیگر زبانوں کی فلمی صنعت میں اپنی منفرد شناخت قائم کر لی۔ اپنے کیریئر کے پہلے ہی سال انہوں نے چھ مختلف زبانوں میں گانے ریکارڈ کیے، جو ان کی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت تھا۔
ایس جانکی اماں نے اپنے طویل فنی سفر کے دوران 17 زبانوں میں 40 ہزار سے زائد گیت گائے، جو ایک غیر معمولی ریکارڈ مانا جاتا ہے۔ ان کے گائے ہوئے رومانوی، جذباتی، روحانی اور کلاسیکی نغمے آج بھی لاکھوں مداحوں کی پسند ہیں۔ ان کی آواز نے نہ صرف جنوبی بھارتی سنیما بلکہ پورے بھارتی موسیقی کے منظرنامے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ایس جانکی اماں کی موت سے بھارتی موسیقی ایک ایسی عظیم فنکارہ سے محروم ہو گئی ہے، جن کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی ورثہ بنی رہے گی۔ ان کے مداح اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ انہیں ان کے لازوال نغموں کے ذریعے یاد رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…