ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے شتابدی تقریب اور وجے دشمی کے موقع پر اپنے خطاب میں ملک و قوم کو درپیش کئی اہم مسائل پر بات کی۔ ان کا خطاب محض تنظیمی نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت کی سمت اور سماجی یکجہتی جیسے سلگتے ہوئے موضوعات پر واضح پیغام تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو مضبوط بنانے کے لیے افراد اور قوم دونوں کا کردار مضبوط ہونا ضروری ہے۔
شتابدی تقریب اور وزیراعظم کی ستائش
آر ایس ایس کی شتابدی تقریب ناگپور کے تاریخی ریشم باغ میدان میں منعقد ہوئی جس میں سابق صدر رام ناتھ کووند مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کا آغاز شستر پوجا سے کیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے موہن بھاگوت کے خطاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریر نے قوم سازی میں سنگھ کے امیرانہ کردار کو نمایاں کیا ہے۔
مہاپرشوں کی زندگی سے رہنمائی
موہن بھاگوت نے اپنے خطاب کا آغاز گرو تیغ بہادر جی کے 350 ویں شہیدی برس اور سنگھ کے 100 برس مکمل ہونے کے سنگم سے کیا۔ انہوں نے تیغ بہادر کے قربانی کو ہندو سماج کی حفاظت کی عظیم مثال بتایا اور مہاتما گاندھی و لال بہادر شاستری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمت، سچائی اور قربانی حقیقی انسانیت کی تعلیم دیتی ہے۔
پہلگام واقعہ اور دشمنوں کو منہ توڑ جواب
بھاگوت نے پچھلے برس پہلگام میں ہندو یاتریوں پر دہشت گرد حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے بھارت کو چوکس رہنے کا پیغام دیا ہے۔ حکومت کی سخت پالیسی، فوج کی شجاعت اور عوام کی یکجہتی نے دشمنوں کو کرارا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ نے دنیا میں بھارت کے دوست و مخالف ممالک کے رویے کو بھی پوری طرح ظاہر کردیا ہے۔
نکسلی تحریک پر کڑی کارروائی
آرایس ایس سربراہ نے نکسلی تحریک کے خاتمے میں حکومت کی کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی سخت کارروائی اور عوامی بیداری سے انتہا پسندی کمزور ہوئی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں پہلے ظلم و ناانصافی تھی، وہاں انصاف، ترقی اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے حکومت جامع منصوبہ بنائے۔
معیشت اور خود انحصاری کا پیغام
بھارت کے معاشی مستقبل پر بات کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ملک کو ہر حال میں خود انحصاری کے راستے پر چلنا ہوگا۔ انہوں نے امریکہ کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی بھی شے میں بیرونی انحصار کو مجبوری نہیں بننے دینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ عالمی معاشی نظام سے امیری اور غریبی کا فرق بڑھ رہا ہے اور استحصال کے نئے طریقے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ’’سودیشی‘‘ ہی حقیقی راستہ ہے۔
پڑوسی ممالک اور جین-زی کے لیے سبق
موہن بھاگوت نے پڑوسی ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں حالیہ سیاسی ہلچل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کے لیے انتباہ ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل خصوصاً Gen-Z کو پیغام دیا کہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ جمہوری طریقے سے آتی ہے، تشدد کبھی دیرپا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو بھی عوام کے جذبات کو سمجھ کر پالیسیاں بنانی چاہئیں اور سماج کو قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کرنا ہوگا۔
بھارتی فکر اور عالمی امیدیں
اپنے خطاب میں بھاگوت نے کہا کہ آج دنیا بھارت کی فکری قیادت کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ صرف مادی ترقی انسانیت کے مسائل کا حل نہیں، بلکہ بھارت کی ’’سناتن، ہمہ جہت فکر‘‘ ہی دنیا کو امن، توازن اور اخلاقیات کا نیا راستہ دکھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مثالوں سے یہ نظام دنیا کے سامنے رکھنا ہے۔
مستقبل کا راستہ اور سنگھ کا عزم
خطاب کے آخر میں بھاگوت نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ملک کے نوجوانوں میں حب الوطنی اور اپنی ثقافت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ آرایس ایس اور دیگر سماجی تنظیمیں نیک نیتی کے ساتھ عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وجے دشمی کے اس موقع پر ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ اپنی فکری وراثت کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ’’ویکتی نرمان‘‘ اور ’’ویوستھا پریورتن‘‘ کی سمت آگے بڑھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…
50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کے تمغوں کی تعداد 30 ہوگئی، 4 گولڈ، 12…
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…