قومی

Bihar Assembly Election 2025: بہار اسمبلی الیکشن کے بعد آرجے ڈی کو لگا بڑا جھٹکا، نتیش کمار کو ہرانے والے لیڈر نے پارٹی سے دے دیا استعفیٰ

بہاراسمبلی الیکشن 2025 میں لالو یادوکی پارٹی کی ہوئی بری ہار کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کوایک اورجھٹکا لگا ہے۔ آرجے ڈی کے قدآورلیڈراورسابق رکن پارلیمنٹ اورلالوپرساد یادو-رابڑی دیوی کی حکومت میں وزیررہے وجے کرشنا نے پارٹی چھوڑدی ہے۔ لالوپرساد یادوکے وہ کافی قریبی تھے، ساتھ ہی وزیراعلیٰ نتیش کمارکے بھی قریبی رہے ہیں۔ لوک سبھا الیکشن میں نتیش کمارکووہ ہرا بھی چکے ہیں۔

وجے کرشنا نے استعفیٰ کیوں دیا ہے، اس سے متعلق خط میں کسی پرکوئی الزام انہوں نے نہیں لگایا ہے۔ لالویادوکوبھیجے گئے استعفیٰ نامہ میں انہوں نے لکھا ہے، “میں نے پارٹی لائن کی سیاست، سرگرم سیاست سے الگ ہوجانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آخرکارراشٹریہ جنتا دل کی ابتدائی رکنیت اورسبھی عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ برائے مہربانی قبول کریں۔” خط میں تاریخ نہیں ہے۔ آج (بدھ) کے روزاستعفیٰ کی جانکاری سامنے آئی ہے۔

کون ہیں وجے کرشنا؟

لالو یادواورنتیش کمارکی طرح ہی وجے کرشنا جے پی تحریک سے ابھرے ہوئے لیڈرہیں۔ نتیش کماربختیارپورمیں رہتے تھے توان سے تقریباً 8 کلومیٹردوراتھمل گولہ کے کلیان پورگاوں میں وجے کرشنا رہتے تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ خوب سیاست کی ہے۔ دونوں کا ایک ٹرین سے آنا جانا ہوا کرتا تھا۔ جب نتیش کمار، لالوپرساد یادوسے الگ ہوئے تھے تووجے کرشن لالوکے ساتھ ہی رہ گئے تھے۔ اس کے بعد دونوں میں دوریاں بڑھ گئیں۔ لالوپرساد یادوکے وزیراعلیٰ بننے کے پہلے سے وہ (وجے کرشنا) جنتا دل کے سرگرم لیڈرتھے۔ وجے کرشنا اورنتیش کماردونوں کا آبائی حلقہ بارہ لوک سبھا حلقہ تھا۔ اس وجہ سے دونوں اسی حلقہ سے الیکشن لڑتے تھے۔ نتیش کمارنے 1999 میں وجے کرشنا کوشکست دی تھی۔ پھر2004 میں نتیش کمارسمجھ گئے تھے کہ اس باروجے کرشنا بھاری پڑیں گے تو انہوں نے دوحلقوں نالندہ اورباڑھ سے الیکشن لڑا تھا۔ 2004 میں وجے کرشنا باڑھ سے جیت کررکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے جبکہ نتیش کمارنالندہ سے جیتے تھے۔

10 سال جیل میں رہے وجے کرشنا

وجے کرشنا 1977 میں پہلی بارجنتا پارٹی (بہار) کے جنرل سکریٹری بنے تھے۔ آرجے ڈی کے ٹکٹ پر باڑھ اسمبلی حلقہ سے 1190 اور1995 میں مسلسل دوبارجیت کررکن اسمبلی بنے۔ لالو پرساد یادوکے ساتھ ساتھ رابڑی دیوی کی حکومت میں وزیررہے۔ وجے کرشنا 2009 کے لوک سبھا الیکشن کے وقت جے ڈی یومیں چلے گئے تھے، لیکن 2010 کے اسمبلی الیکشن کے وقت آرجے ڈی میں واپس لوٹ آئے۔ 2009 میں ایک قتل سانحہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ پھنس گئے۔ عدالت کی طرف سے 2013 میں وجے سمیت چارلوگوں کوعمرقید کی سزا دی تھی۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے 2022 میں انہیں رہا کردیا۔ تقریباً 10 سال جیل میں رہنے کے بعد وہ باہرآئے تھے۔ جیل سے آنے کے بعد بھی وجے کرشنا آرجے ڈی سے جڑے رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Kisan Yojana: وزیر اعظم کسان یوجنا کی 24ویں قسط سے متعلق بڑی اپ ڈیٹ! اکتوبر کے 16 دن گزر گئے، جانیے کب مل سکتا ہے یہ تحفہ

وزیر اعظم کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت کروڑوں کسانوں کو 24ویں قسط کا انتظار…

26 minutes ago

Amit Shah Congratulates ABVP: اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کا دبدبہ، امت شاہ نے دی مبارک باد، 13 یونیورسٹیوں میں کامیابی

اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی نے کئی یونیورسٹیوں میں اپنی…

29 minutes ago

World Cup 2027: ورلڈ کپ 2027 کے لیے بمراہ کی یہ کیسی تیاری؟ 2023 کے بعد اب تک کھیلے ہیں صرف 2 ون ڈے میچ

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی گھریلو ون ڈے سیریز میں بھی…

33 minutes ago

Supreme Court: بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا درست نہیں، یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے- سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی لگائی گئی تو…

1 hour ago