قومی

New Book Release: موتھا اشوک جین کی کتاب’River of Thought-II‘ منظر عام پر، زندگی کے تجربات، خود شناسی اور فکری بصیرت کا نیا مجموعہ

نئی دہلی: زندگی کی غیر یقینی کیفیت، روزمرہ کے دباؤ، انسانی تجربات اور ان سے حاصل ہونے والی بصیرتوں کو موضوع بناتے ہوئے مصنف موتھا اشوک جین کی کتاب ’River of Thought-II‘ قارئین کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے ان خیالات اور فکری مشاہدات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ایک عرصے کے دوران سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔ کتاب میں زندگی کے مختلف تجربات کو سمجھنے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے تعارفی متن کے مطابق انسانی زندگی بسا اوقات انتشار، غیر یقینی اور ذہنی دباؤ سے دوچار رہتی ہے۔ انسان ایک ہی وقت میں متعدد ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی توجہ اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ زندگی کا معمول کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر چلتا رہے۔ مصنف کے مطابق اچانک پیش آنے والے غیر متوقع واقعات انسان کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور بعض اوقات ان حالات کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے مواقع پر انسان فوری طور پر حالات کو قابو میں کرنے اور دوبارہ اپنی معمول کی مصروف زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

ذاتی تجربات سے پیدا ہونے والے سوالات

مصنف نے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے بھی بارہا اسی طرح کے حالات کا سامنا کیا، لیکن وقت کے ساتھ انہیں محسوس ہوا کہ زندگی کو صرف واقعات کے ایک سلسلے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ ان تجربات نے ان کے اندر متعدد سوالات پیدا کیے اور انہیں زندگی کی گہری معنویت پر غور کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے ان سوالات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو انہیں محسوس ہوا کہ زندگی میں بظاہر الگ الگ نظر آنے والے واقعات کے درمیان بھی کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔

زندگی ایک مسلسل مکمل ہونے والی پہیلی

’River of Thought-II‘ میں زندگی کو ایک بڑی اور پیچیدہ پہیلی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس پہیلی کے ٹکڑے ایک ایک کرکے اپنی جگہ پر آتے ہیں، لیکن یہ پہیلی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ مصنف زندگی کو ایک ایسے مسلسل عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جو وقت کے ساتھ پھیلتا، تبدیل ہوتا اور نئی شکل اختیار کرتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق انسان زندگی کے ایک راز یا ایک پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک نئی پرت یا نیا سوال سامنے آجاتا ہے۔ کتاب کے تعارفی متن میں انسانی آزاد ارادے کو بھی زندگی کی تشکیل میں اہم قرار دیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق انسان کے اپنے فیصلے اور انتخاب بھی زندگی کے مسلسل تبدیل ہوتے ہوئے نقشے کا حصہ بنتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے تحت زندگی صرف ایسے واقعات کا مجموعہ نہیں جو انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں، بلکہ انسان اپنے فیصلوں اور تجربات کے ذریعے بھی اس کے راستے اور سمت کو متاثر کرتا ہے۔

سوشل میڈیا کے خیالات کتابی شکل میں

موتھا اشوک جین کے مطابق یہ دوسری کتاب ان بہت سے خیالات اور فکری نکات میں سے منتخب مواد پر مشتمل ہے جو انہوں نے ایک عرصے کے دوران سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے۔ ان خیالات میں زندگی کے تجربات سے حاصل ہونے والی سمجھ اور مختلف حالات سے نمٹنے کے حوالے سے پیدا ہونے والی بصیرت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مصنف نے امید ظاہر کی ہے کہ کتاب میں شامل یہ خیالات قارئین کو اپنے ذاتی تجربات اور زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیں گے۔

قارئین کو اپنے تجربات پر غور کی دعوت

کتاب کا مجموعی فکری زاویہ قارئین کو اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرنے، ان کے درمیان ممکنہ تعلق تلاش کرنے اور اپنے تجربات سے حاصل ہونے والی بصیرت کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ مصنف کے نزدیک زندگی کے سوالات کے تمام جوابات ایک ہی وقت میں نہیں ملتے بلکہ انسان اپنے سفر کے دوران تجربات، مشاہدات اور غور و فکر کے ذریعے انہیں بتدریج سمجھتا ہے۔ ’River of Thought-II‘ اسی مسلسل فکری سفر کی عکاسی کرتی ہے اور زندگی کو ایک ایسے عمل کے طور پر پیش کرتی ہے جس میں سوال، تجربہ، ادراک اور نئی بصیرت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Pandit Deendayal Upadhyaya: ’انتودیہ اور ایکاتم مانوواد…‘ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا کہا؟

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…

35 minutes ago

Deendayal Upadhyaya Jayanti: دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام، کہا- ’انتودیہ ہی قوم کی تعمیر کی بنیاد ہے‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کہا-…

58 minutes ago

US Navy Uses Laser Weapons: گیمنگ کنٹرولر سے تباہ ہوں گے ایرانی ڈرون! آبنائے ہرمز میں امریکہ نے تعینات کیے ’غیر مرئی‘ لیزر ہتھیار

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز…

1 hour ago