بریلی تشدد میں شامل ہونے کے الزام میں دو ملزمین کا پولیس نے انکاؤنٹر کیا ہے۔
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر حالات کشیدہ ہو گئے۔ نماز کے فوراً بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن بھیڑ مشتعل ہو کر بیریکیڈ توڑنے پر آمادہ ہو گئی۔ اس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کیا۔ واقعہ کے بعد شہر کا ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔
مولانا توقیر رضا کی اپیل اور احتجاج
اطلاعات کے مطابق اِتحادِ ملت کونسل (IMC) کے صدر مولانا توقیر رضا نے نماز کے بعد اسلامیہ گراؤنڈ میں جمع ہو کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اگرچہ وہ خود موقع پر موجود نہیں تھے لیکن ان کے اعلان پر بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ بھیڑ اسلامیہ میدان جانے پر بضد رہی جس کے بعد صورتحال بگڑ گئی۔
پولیس کی کارروائی اور ویڈیو منظرعام پر
پولیس نے جب لاٹھی چارج کیا تو سڑکوں پر افراتفری مچ گئی۔ لوگوں کے جوتے، چپل ہر طرف بکھر گئے۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکار مظاہرین کو دوڑا دوڑا کر مارتے دکھائی دیے۔ ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار یہ کہتے بھی سنے گئے: ”ارے پیٹو نہیں، مر جائیں گے یار“۔ اس منظر نے واقعے کو مزید متنازع بنا دیا۔
#WATCH | Visuals from the ‘I Love Mohammad’ protests in Bareilly, UP, after Police deployed lathi charge as protestors pelted stones during the protests after the Friday prayers. pic.twitter.com/3SAb9HFLug
— ANI (@ANI) September 26, 2025
شامی گنج اور نو محلہ میں کشیدگی
شہر کے شامی گنج علاقے میں مظاہرین اور ایس پی کرائم کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی۔ حالات قابو سے باہر ہونے پر شامی گنج میں دکانیں بند کرا دی گئیں۔ نو محلہ مسجد کے باہر بھی بھیڑ اکٹھی ہوئی، جہاں پولیس نے ہنگامہ کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
کانپور سے بریلی تک پھیلا تنازع
یہ تنازع دراصل کانپور سے شروع ہوا تھا جہاں ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ گزشتہ رات بریلی میں بھی یہ پوسٹر سامنے آئے۔ شاہ دانا درگاہ کے عرس میں ان پوسٹروں کے ساتھ جلوس نکالا گیا۔ بعض مذہبی رہنماؤں نے اپیل کی کہ لوگ یہ پوسٹر گاڑیوں پر یا گھروں پر نہ لگائیں، کیونکہ اگر یہ پھٹ جائیں یا زمین پر گر جائیں تو اس سے اسلام کی توہین ہوگی۔
پولیس کی تیاری اور دفعہ 163
انتظامیہ نے پہلے ہی صورتحال کو بھانپتے ہوئے اسلامیہ انٹر کالج میں دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور ضلع میں دفعہ 163 نافذ کر دی تھی۔ اس کے باوجود نماز کے بعد بھیڑ سڑکوں پر آ گئی اور حالات بگڑ گئے۔ پولیس نے ہزاروں اہلکار تعینات کیے تھے تاکہ صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔
ماضی کے واقعات اور تازہ تناؤ
خیال رہے کہ مولانا توقیر رضا پر 2010 میں بریلی میں فسادات بھڑکانے کا الزام بھی لگ چکا ہے۔ اب ایک بار پھر ان کے اعلان کے بعد شہر میں تناؤ پھیل گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پایا جا رہا ہے اور حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…