قومی

Central Board of Education: ’وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل‘ پر نظرثانی اور وسیع مشاورت ضروری: مرکزی تعلیمی بورڈ

نئی دہلی : مرکزی تعلیمی بورڈ(ایم ٹی بی) کی جانب سے مجوزہ وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان(وی بی ایس اے) بل،2025 پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن وہ دستورِ ہند، وفاقی نظام اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے مطابق ہوں۔ یہ بل اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نیا مرکزی ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے، جو موجودہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن(اے آئی سی ٹی ای) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن(این سی ٹی ای) کی جگہ لے گا۔ بل کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے ضابطوں کو ایک نظام کے تحت لانا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔

ہندوستان کا دستور ہمارے وفاقی نظام کی بنیاد

مرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری، سید تنویر احمد نے کہا کہ اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو زیادہ بااختیار، جواب دہ اور تحقیق و اختراع کے لیے زیادہ سازگار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا دستور ہمارے وفاقی نظام کی بنیاد ہے۔ چونکہ تعلیم Concurrent List کا موضوع ہے، اس لیے مرکز اور ریاستیں دونوں اس شعبے میں برابر کی آئینی ذمہ داری رکھتی ہیں۔ کسی بھی نئے قانون میں اس توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بل میں مختلف اختیارات کو ایک مرکزی ادارے کے سپرد کرنے کی تجویز انتظامی اعتبار سے مفید ہو سکتی ہے، لیکن اس سے اختیارات کی حد سے زیادہ مرکزیت اور ریاستوں کے کردار کے محدود ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معاملات میں مناسب آزادی ملنی چاہیے تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ سید تنویر احمد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ متعدد ریاستی حکومتوں، ماہرینِ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں نے بھی بل کے بعض پہلوؤں پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

قانون سے متعلق سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ضروری

انہوں نے کہا کہ ایسے اہم قانون پر فیصلہ کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ہونی چاہیے۔ کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام صرف مضبوط قوانین سے نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت اور آئینی اصولوں کے احترام سے بنتا ہے‘‘۔ مرکزی تعلیمی بورڈ نے مطالبہ کیا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی ) ریاستی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آراء اور تجاویز کو سنجیدگی سے زیرغور لائے، تاکہ مجوزہ قانون زیادہ متوازن، قابل عمل اور وسیع تعلیمی قبولیت کا حامل بن سکے۔ سید تنویر نے مزید کہا کہ ’’اگر ہندوستان کو عالمی معیار کا تعلیمی نظام قائم کرنا ہے تو اصلاحات کا مقصد اختیارات کو صرف ایک جگہ جمع کرنا نہیں، بلکہ معیاری تعلیم، آزاد تحقیق، بااختیار تعلیمی اداروں اور دستورہند کے بنیادی اصولوں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

9 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

9 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

10 hours ago