نئی دہلی : ملک کی 4 اہم ریاستوں اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک کی قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں کے انتخابی نتائج کا فیصلہ آج ہونے جا رہا ہے۔ 23 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد آج، 27 اکتوبر کو صبح 8 بجے سے تمام مراکز پر ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی ان 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بی جے پی، سماجوادی پارٹی، کانگریس، مہایوتی، مہاوکاس اگھاڑی اور آزاد امیدواروں نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے عین پہلے ہونے والے ان انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ساکھ کی بڑی لڑائی اور اہم ’سیمی فائنل‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
اتر پردیش: 11 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی شروع
اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت مجموعی طور پر 11 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جاری ہے۔ لکھنؤ کے رمابائی ریلی مقام، گورکھپور یونیورسٹی، میرٹھ، وارانسی اور جھانسی سمیت 7 مراکز پر گنتی ہو رہی ہے۔اس انتخاب میں مجموعی طور پر 152 امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ لکھنؤ، آگرہ، میرٹھ، وارانسی اور الہ آباد-جھانسی کی نشستوں پر بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ 2020 کے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے 6، سماجوادی پارٹی نے 3 اور آزاد امیدواروں نے 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، اس مرتبہ سماجوادی پارٹی ہر حال میں انتخابی صورت حال اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بہار: 8 نشستوں پر سخت مقابلہ
بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں، جن میں گریجویٹ کی 4 اور اساتذہ کی 4 نشستیں شامل ہیں، پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ پٹنہ کے بانکی پور اسکول سمیت مظفرپور، دربھنگہ، پورنیہ اور سارن کے 6 ضلعی مراکز پر گنتی کی جا رہی ہے۔پٹنہ، دربھنگہ، ترہت، کوسی اور سارن جیسے اہم انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 150 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ بہار میں حکمراں این ڈی اے اتحاد اور اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کے علاوہ پرشانت کشور کی ’جن سوراج‘ پارٹی کے امیدوار بھی پہلی بار میدان میں ہیں۔ اس وجہ سے مقابلہ دلچسپ اور سہ رخی ہو گیا ہے۔
مہاراشٹر: 5 نشستوں پر کانٹے کی ٹکر
مہاراشٹر میں گریجویٹ حلقوں کی 3 نشستوں، ناگپور، پونے اور چھترپتی سمبھاجی نگر، جبکہ اساتذہ کے حلقوں کی 2 نشستوں، پونے اور امراوتی، پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ریاست کی ان 5 نشستوں پر مجموعی طور پر 182 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ناگپور اور پونے کی گریجویٹ نشستوں پر بی جے پی، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دونوں دھڑوں، یعنی اجیت پوار اور شرد پوار گروپ، کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اتحاد کے باغی امیدواروں کی موجودگی نے مقابلے کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔
کرناٹک: بی جے پی-جے ڈی ایس اتحاد کا امتحان
جنوبی ریاست کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی 4 نشستوں، جن میں گریجویٹ کی 2 اور اساتذہ کی 2 نشستیں شامل ہیں، پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ یہاں حکمراں کانگریس اور اپوزیشن کے بی جے پی-جے ڈی ایس اتحاد کے درمیان مقابلہ ہے۔بنگلورو ٹیچر، شمال مشرقی ٹیچر، جنوب مشرقی گریجویٹ اور مغربی گریجویٹ حلقوں میں مجموعی طور پر 43 امیدوار میدان میں ہیں۔ان انتخابات کے نتائج سے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی حکومت کی کارکردگی اور اپوزیشن کے اتحاد کی طاقت کا بھی اندازہ لگایا جائے گا۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ان نتائج کو ریاست کی سیاسی صورت حال کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
خلیج بنگال میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’ارنب‘ کے پیش نظر مرکزی حکومت نے بھی…
ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو…
ملک کی اہم اور مصروف ترین عدالتی اداروں میں شامل بامبے ہائی کورٹ میں ججوں…
مائیکروسافٹ کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت…
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…
بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…