قومی

Prof. Najma Rehmani passes away: شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی سابق صدر پروفیسر نجمہ رحمانی کا انتقال، بٹلہ ہاؤس قبرستان میں ہوگی تدفین

نئی دہلی: معروف ناقد، شاعرہ اور ادیبہ اورشعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی سابق صدرپروفیسرنجمہ رحمانی کا انتقال ہوگیا ہے۔ انہوں نے آج 22 مارچ، 2025 کو صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے آخری سانس لی۔ اطلاعات کے مطابق، وہ کینسرجیسے خطرناک اور موذی مرض میں مبتلا تھیں اوران کا علاج بھی جاری تھا، لیکن علاج سے راحت نہیں ملی اورآج ان کا وقت مکمل ہوگیا اورمالک حقیقی سے جاملیں۔ وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھیں۔ یہ اطلاع پروفیسرنجمہ رحمانی کے بڑے بھائی اورمعروف دانشورڈاکٹرتسلیم رحمانی نے فیس بک پر پوسٹ کے ذریعہ دی۔

اطلاعات کے مطابق، دوپہر تین بجے انہیں دہلی یونیورسٹی واقع رہائش گاہ سے بٹلہ ہاؤس لایا جائے گا۔ جہاں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔ بعد نمازعصر سوا پانچ بجے مسجد خلیل اللہ، بٹلہ ہاؤس میں نمازجنازہ ادا کی جائے گی اوربٹلہ ہاؤس قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی۔ پروفیسرنجمہ رحمانی کے انتقال سے اردو داں طبقے میں مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پرلوگ ان کی مغفرت کی دعائیں کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پروفیسر نجمہ رحمانی نے ذاکرحسین کالج، دہلی یونیورسٹی سے ستمبر، 1995 میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ اس کے جولائی 2000 میں پونے کے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ 03 فروری 2003 کو دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئیں اورانتقال تک خدمات انجام دیتی رہیں۔ حالانکہ طویل وقت سے وہ بیمار چل رہی تھیں، جس کی وجہ سے کئی مہینوں سے شعبہ میں آنے سے قاصرتھیں۔

 

قابل ذکرہے کہ پروفیسرنجمہ رحمانی ابھی شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی سے وابستہ تھیں اور صدارت کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ اپنی مدت صدارت سے سال 2024 میں سبکدوش ہوئی تھیں۔ پروفیسرنجمہ رحمانی کی پہچان ایک افسانہ نگاراور ناقد کے طور پر مستحکم تھی۔ انھوں نے اردو میں تانیثیت کے حوالے سے نہایت اہم کام کیا ہے۔ ان کی دو کتابیں آزادی کے بعد اردو شاعرات اوراردوافسانے کا سفر نہایت اہم ہیں اور ان کی تنقیدی شناخت کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ نجمہ رحمانی شاعری بھی کرتی تھیں اور خاص کر نظموں میں انھیں کمال حاصل تھا۔ ادبی حلقوں میں ان کی شاعری بھی کافی مقبول تھی۔ تانیثیت کے حوالے سے ان کی تخلیقی اور تنقیدی خدمات بھی کافی اہم ہیں۔ ان کا انتقال اردوادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔  دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے موجودہ صدرپروفیسرابوبکرعباد نے تعزیت کا اظہارکیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

2 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

3 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

3 hours ago