نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کرشی بھون کے قریب واقع قدیمی مسجد کو ہٹانے کی مجوزہ حکومتی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مسجد کو سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے متصادم قرار دینا نہ صرف قانونی اور تاریخی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، بلکہ سیکولرازم کے بنیادی اصولوں کی بھی غلط تشریح ہے۔
میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ ’’سرکاری عمارتوں اور احاطوں میں مسجد کی موجودگی سیکولر کردار کے منافی ہے‘‘ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آخر وہ کون سا قانون ہے جو سرکاری عمارتوں یا احاطوں میں کسی مذہب کے ماننے والوں کو عبادت کی سہولت فراہم کرنے سے روکتا ہے؟ ہمارے ملک میں سیکولرازم کا مفہوم تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک اور احترام ہے نا کہ مذہب اور مذہبی شعائر کی مخالفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے موقف کی واضح قانونی بنیاد پیش کرے اور یہ واضح کرے کہ مسجد کی تاریخی حیثیت اور طویل عرصے سے جاری اس کے مذہبی و عبادتی استعمال کو کس طرح پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ حکومت کو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے، جس کی بعد میں تلافی ممکن نہ ہو۔
ملک معتصم خان نے مسجد کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ قدیمی مسجد کرشی بھون کی تعمیر سے بھی پہلے سے موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری دفاتر مسجد کے گرد تعمیر کیے گئے تھے، نہ کہ مسجد کسی پہلے سے قائم دفتری کمپلیکس کی زمین پر قائم ہوئی تھی۔ سنہ 1970 کا مسجد سے متعلق وقف نوٹیفکیشن اور 1940 کا وہ معاہدہ، جس میں مسجد میں نماز کی ادائیگی کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا، یہ ایسے اہم تاریخی اور دستاویزی شواہد ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کئی دہائیوں سے مسلم سرکاری ملازمین اور مرکزی سکریٹریٹ آنے والے افراد اس مسجد میں نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ حکومت کو ان شہریوں کے بنیادی مذہبی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے سیکولرازم کی ایسی تشریح، جس کے تحت سرکاری احاطوں سے مذہبی عمارتوں کو ہٹانا ضروری قرار دیا جائے، ایک متضاد طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کے دیگر عوامی اور سرکاری مقامات پر مذہبی رسومات اور علامات موجود نہیں ہیں اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ملک بھر میں عوامی تقریبات، پولیس اسٹیشنوں اور مختلف سرکاری دفاتر میں بھومی پوجن، ہون اور دیگر مذہبی رسومات کے ساتھ مذہبی تصاویر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں؟ ایسے میں صرف ایک قدیمی مسجد کو سرکاری احاطے کے سیکولر کردار کے خلاف قرار دینا کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان‘ کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور مسجد سے وابستہ افراد کے حقوق و خدشات کا مکمل لحاظ کرتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔ مسجد کمیٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا مقصد ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ ڈالنا نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کو بھی مثبت رویے، لچک اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مجوزہ منصوبے میں اس موجودہ عبادت گاہ کو محفوظ رکھنے کی راہ تلاش کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ تاریخی حقائق، قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسجد کو ہٹانے کے مجوزہ منصوبے سے باز آئے اور تمام متعلقہ فریقوں کے مذہبی حقوق، تاریخی ورثے اور آئینی آزادیوں کا احترام کرتے ہوئے اس قدیمی مسجد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی کابینہ نے اگنی ویروں کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ اب 75 فیصد…
سروٹیک رینیوایبل پاور سسٹم لمیٹڈ نے مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں مضبوط…
ٹیم انڈیا کے اسٹار وراٹ کوہلی نے نصف سنچری لگاکرٹیم انڈیا کو پہلے ونڈے میں…
وزیر اعظم سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے سمندری طوفان…
بدھ مذہب میں اسٹوپوں کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہیں صرف مذہبی یادگار نہیں سمجھا…
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مشی گن کی سینیٹ…