قومی

Relief or A New Crisis This Diwali: دیوالی پر راحت یا نئی آفت: دہلی-این سی آر میں گرین پٹاخوں کی اجازت سے آلودگی پر کتنا ہوگا قابو؟

دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں دیوالی سے پہلے ہی فضائی آلودگی تشویش ناک صورت اختیار کرنے لگی ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کی جانب سے گرین پٹاخوں کے استعمال کی محدود اجازت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف تہوار منانے کی روایت اور لوگوں کے جذبات ہیں، تو دوسری طرف صحت اور صاف ہوا میں سانس لینے کا بنیادی سوال ہے۔ 2 نومبر کو دہلی کا فضائی معیار انتہائی خراب زمرے میں پہنچ گیا۔ شام 4 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 324 ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن نے این سی آر میں گریپ کے دوسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ کردیں۔ ایسے حالات میں پٹاخوں سے نکلنے والا اضافی دھواں آلودگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

گرین پٹاخوں کے استعمال کی اجازت کب اور کتنی؟

سپریم کورٹ نے 7 اور 8 نومبر کو صبح 6 سے 7 بجے اور رات 8 سے 10 بجے تک صرف مصدقہ گرین پٹاخے جلانے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت عارضی ہے اور 9 نومبر سے پٹاخوں پر مکمل پابندی دوبارہ نافذ ہوجائے گی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ صرف سی ایس آئی آر-نیری اور پیسو سے منظور شدہ پٹاخے ہی استعمال کیے جاسکیں گے۔ بیریم والے پٹاخوں اور لڑیاں یا لڑی نما پٹاخوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی برقرار رہے گی۔ اسپتالوں، نرسنگ ہومز، صحت مراکز، اولڈ ایج ہومز اور نوٹیفائیڈ خاموش علاقوں کے 300 میٹر کے دائرے میں پٹاخے جلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

کیا گرین پٹاخے آلودگی ختم کردیں گے؟

گرین پٹاخوں کو روایتی پٹاخوں کے مقابلے میں کم دھواں اور کم آلودگی پیدا کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ان سے آلودگی کے اخراج میں تقریباً 30 فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے دھواں یا مضر ذرات بالکل خارج نہیں ہوتے۔

اصل چیلنج عمل درآمد کا ہے

دہلی کی آلودگی میں گاڑیوں، صنعتوں، تعمیراتی سرگرمیوں، فصلوں کی باقیات جلانے اور موسم کی صورتحال سمیت کئی عوامل شامل ہیں۔ ایسے میں صرف گرین پٹاخوں کی اجازت یا پابندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ منظور شدہ پٹاخوں کی فروخت اور استعمال پر سخت نگرانی ہو، غیر قانونی پٹاخوں کی آمد روکی جائے اور مقررہ وقت و مقامات کی پابندی یقینی بنائی جائے۔ دیوالی کی خوشیاں اسی وقت حقیقی راحت بن سکتی ہیں جب ان کے ساتھ لوگوں کی صحت اور صاف ہوا کا خیال بھی رکھا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

20 minutes ago

Rising Stars Asia Cup: رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: تلک ورما کے ہاتھوں میں ’انڈیا اے‘ کی کمان، رجت پاٹیدار نائب کپتان مقرر

ایشین کرکٹ کونسل کے مینز رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ کے لیے 15 رکنی انڈیا اے…

2 hours ago