قومی

Tej Pratap Angry Tejashwi Yadav: تیج پرتاپ نے تیجسوی یادو پر خاندان کے اندر سیاسی جنگ شروع کرنے کا لگایا الزام

بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل آر جے ڈی اور لالو خاندان سے نکالے گئے تیج پرتاپ یادو نے آر جے ڈی لیڈر اور چھوٹے بھائی تیجسوی یادو کے ساتھ اپنے تعلقات کو لے کر اہم انکشاف کیا ہے۔ اس سے سیاسی حلقوں میں تیج پرتاپ اور تیجشوی  یادوکے تعلقات میں تلخی کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔

ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جن شکتی جنتا دل کے سربراہ اور لالو یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ وہ کبھی بھی آر جے ڈی میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تیجسوی یادو کے بارے میں بھی اہم انکشاف کیا۔تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو نے ان کی توہین کی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے چھوٹے بھائی سے دکھی ہیں۔
کبھی تیجسوی کو “ارجن” کہا جاتا تھا۔

تیج پرتاپ یادو، جو کبھی تیجسوی یادو کو اپنا “ارجن” اور خود کو “کرشن” کہتے تھے، انہوں نے کہا کہ اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے تمام تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ تیج پرتاپ نے تیجسوی یادو پر خاندان کے اندر سیاسی جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا۔
تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو کے ساتھ ان کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ یہ تیجسوی یادو ہی تھے ،جنہوں نے لالو خاندان میں خاندانی اور سیاسی کشمکش کی شروعات کی تھی۔
دونوں بھائیوں کے درمیان تلخی

بہار کی سیاست میں لالو یادو خاندان کا دبدبہ سب کو معلوم ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی کشمکش نے لالو خاندان کی شبیہ کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان جھگڑے کی حد اتنی ہے کہ آر جے ڈی سے نکالے جانے کے بعد تیج پرتاپ یادو نے اپنی الگ پارٹی جن شکتی جنتا دل بنائی اور ویشالی کی مہوا اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑا۔
دونوں بھائیوں کے درمیان تلخی اتنی بڑھ گئی

دونوں بھائیوں کے درمیان تلخی اتنی بڑھ گئی ہے کہ تیج نے راگھوپور میں تیجسوی یادو کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کر دیا ہے، وہی حلقہ جہاں سے تیجسوی یادو الیکشن لڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں تیج پرتاپ یادو نے اپنے امیدوار کی حمایت میں مہم چلانے راگھوپور کا دورہ کیا۔ تیجسوی یادو نے تیج پرتاپ کے حلقہ مہوا میں انتخابی مہم چلا کر جوابی کارروائی کی، جس سے دونوں بھائیوں کے درمیان تنازعہ سامنے آیا۔
تیج پرتاپ کو وائی کیٹیگری کی سیکورٹی

اس دوران مرکزی حکومت نے تیج پرتاپ یادو کی سیکورٹی کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ بہار انتخابات کے درمیان وزارت داخلہ نے تیج پرتاپ کو وائی پلس سیکورٹی دی ہے۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار اب تیج پرتاپ کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔
بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ 6 نومبر کو ہوئی تھی۔ دوسرا مرحلہ گیارہ نومبر کو ہوگا ،جس کے انتخابی نتائج کا اعلان چودہ نومبر کو ہوگا۔ انتخابی نتائج اب اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا تیج پرتاپ لالو خاندان کے اندرونی تنازع میں غالب رہتے ہیں یا تیجسوی اپنے بڑے بھائی پر
غالب رہتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago