قومی

Petrol & Diesel Prices: ’’تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی کررہی ہیں نقصان کی تلافی، فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں: ہردیپ سنگھ پوری

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں کمی کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیونکہ سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی گزشتہ برسوں کے بھاری خسارے کی تلافی کر رہی ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل (کروڈ آئل) کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں صرف 5.58 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6.23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تیل کمپنیاں اب بھی خسارہ پورا کررہی ہیں

مرکزی وزیر نے کہا کہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اب بھی تقریباً 2.18 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی خسارے (انڈر ریکوری) کی تلافی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کے پاس اب بھی ایسا ایندھن موجود ہے جو اس وقت خریدا گیا تھا جب بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، اس لیے موجودہ حالات میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ’’اس وقت ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

عالمی بحران کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیا

وزیر نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو بڑی حد تک ہندوستانی صارفین تک پہنچنے سے روکے رکھا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حالیہ کشیدہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھی ملک میں کہیں ایندھن کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’ملک کے کسی بھی پٹرول پمپ پر ایندھن ختم ہونے کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔‘‘ ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق ملک بھر میں موجود تقریباً 1.07 لاکھ پٹرول پمپ پورے بحران کے دوران معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے زیادہ تر مالی بوجھ کو خود برداشت کیا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

2030 تک ریفائننگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا

مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2030 تک ہندوستان کی سالانہ ریفائننگ صلاحیت بڑھا کر 309.5 ملین میٹرک ٹن (MMTPA) کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی موجودہ ریفائنریوں کی توسیع اور نئی گرین فیلڈ ریفائنریوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے بعض آئندہ دو برس کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کی توانائی سلامتی اور ریفائننگ صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

7 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago