نئی دہلی : ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بعض بازاروں میں اس کی قیمت 65 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بڑھتی قیمتوں کے درمیان مرکزی حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن خام چینی بغیر درآمدی ڈیوٹی کے منگانے کی اجازت دی ہے۔ تقریباً دس سال بعد ایسا موقع آیا ہے جب بھارت کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے چینی درآمد کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ چینی اچانک اتنی مہنگی کیوں ہوگئی، کیا ملک میں اس کی کمی ہے، موسم کا اس پر کیا اثر پڑا ہے اور کیا ایتھنول کی پیداوار بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے؟
گھریلو پیداوار اور سپلائی پر دباؤ
چینی کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گھریلو بازار میں اس کی دستیابی پر بڑھتا ہوا دباؤ بتایا جارہا ہے۔ ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران چینی کی پیداوار یکساں نہیں رہی۔ کبھی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچی تو کبھی اس میں کمی دیکھی گئی۔15 اپریل 2026 تک ملک میں 273.90 لاکھ میٹرک ٹن چینی تیار ہوچکی تھی۔ اس دوران ملک بھر میں 541 چینی ملیں کام کررہی تھیں اور ان میں 2,865.21 لاکھ میٹرک ٹن گنے کی پِرائی کی گئی۔ گنے سے چینی حاصل ہونے کی اوسط شرح 9.56 فیصد رہی۔
موسم اور گنے کی بیماریاں بھی وجہ
ماہرین کی تشویش بنیادی طور پر موسم اور گھریلو سپلائی کو لے کر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی دستیابی پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ اگر بارش معمول سے کم رہی تو گنے کی اگلی فصل متاثر ہوسکتی ہے، جس کا اثر آئندہ شوگر سیزن کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ گنے کی فصل کو ریڈ روٹ اور ٹاپ بورر جیسی بیماریوں سے بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار تقریباً 306 لاکھ میٹرک ٹن رہ سکتی ہے، جبکہ گنا پیدا کرنے والی ریاستوں کا ابتدائی اندازہ تقریباً 343 لاکھ میٹرک ٹن تھا۔
کیا ایتھنول کی پیداوار ذمہ دار ہے؟
چینی کی قیمت بڑھنے کے بعد یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پٹرول میں ایتھنول ملانے کے لیے چینی کو ایتھنول کی پیداوار کی جانب موڑنے سے بازار میں چینی کی دستیابی کم ہوئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔ تاہم وزارت خوراک و امور صارفین نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں اس دعوے کو مسترد کردیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کا تعلق ایتھنول سے نہیں بلکہ کم گھریلو پیداوار، آنے والے تہواروں کے دوران بڑھنے والی طلب اور ذخیرہ اندوزی سے ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایتھنول بنانے کے لیے چینی کا رخ کرنے والی مقدار 2022-23 کے سیزن میں 12 فیصد تھی، جو 2025-26 میں کم ہوکر صرف 9 فیصد رہ گئی ہے۔اس کے علاوہ بھارت میں ایتھنول کی کل پیداوار کا تقریباً 75 فیصد حصہ اب گنے کے بجائے اناج، خاص طور پر مکئی سے حاصل کیا جارہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس لیے موجودہ چینی مہنگائی کا ذمہ دار ایتھنول پروگرام کو قرار دینا درست نہیں ہے۔
عام آدمی کی جیب پر پڑے گا اثر
چینی کی قیمتوں میں تیزی کا براہ راست اثر عام صارفین کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ اتر پردیش میں صرف ڈیڑھ ماہ کے دوران چینی کے دام 17 روپے فی کلو تک بڑھ گئے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے قیمت میں روزانہ ایک سے دو روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ علی گڑھ میں چینی 61 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب میں خوردہ قیمت تقریباً 65 روپے فی کلو بتائی جارہی ہے، جبکہ ممبئی، بھوپال اور بعض دیگر بازاروں میں چینی 58 سے 63 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔محکمہ امور صارفین کے اعداد و شمار کے مطابق 20 اگست کو ملک میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت 55.70 روپے فی کلو ہوگئی۔ 13 اگست کو یہ قیمت 50.98 روپے، ایک ماہ قبل 48.18 روپے اور ایک سال پہلے 46.30 روپے فی کلو تھی۔ یعنی ایک ہفتے میں اوسط قیمت 4.72 روپے، ایک ماہ میں 7.52 روپے اور ایک سال میں 9.40 روپے فی کلو بڑھ چکی ہے۔تہواروں سے پہلے چینی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عام خاندانوں کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ اس کا اثر مٹھائی، بیکری مصنوعات اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کا مقصد گھریلو سپلائی بڑھا کر قیمتوں کو قابو میں لانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…