قومی

Manoj Jha on Robot Dog Controversy: ‘روبوٹ ڈاگ’ تنازع پر منوج جھا نے اٹھائے سوال، کہا — عالمی پلیٹ فارم پر معیاری جانچ کہاں تھی؟

نئی دہلی: قومی راجدھانی نئی دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران سامنے آئے ’روبوٹ ڈاگ‘ تنازع پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج کمار جھا نے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عالمی سطح کے پروگرام کا انعقاد یقیناً مثبت قدم ہے، لیکن یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بھارت ابھی تک مصنوعی ذہانت سے جڑی چیلنجز اور امکانات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پایا ہے۔

منوج جھا نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) جیسے حساس اور مستقبل سے وابستہ موضوع پر ملک میں اب تک وسیع اور سنجیدہ سطح پر بحث نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں بھارت کسی حد تک پیچھے ضرور ہے، لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ اس سمٹ کے بعد ملک اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا اور جن میدانوں میں کمی رہ گئی ہے، وہاں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔

سمٹ کے دوران پیش آئے ’روبوٹ ڈاگ‘ تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی کے افراد بھی اس معاملے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے عالمی پلیٹ فارم پر پیش آنے والے واقعے سے کئی افراد نے خود کو شرمندہ محسوس کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کے لیے کسی ایک ادارے یا اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ معیار کی جانچ اور نگرانی کا ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے اسکول کے سائنس میلے میں بھی استاد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پیش کیا جانے والا ماڈل درست اور معیاری ہو، تو پھر عالمی سطح کے پروگرام میں ایسی نگرانی کیوں نہیں ہوئی۔

تعلیم کے نظام پر بات کرتے ہوئے منوج جھا نے کہا کہ دنیا کے بڑے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں بھارتی ماہرین کا کردار انتہائی اہم رہا ہے اور کئی نمایاں عالمی شخصیات بھارتی پس منظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے تعلیمی اداروں کی اہمیت کو سمجھے اور انہیں مضبوط بنائے تو ہی اعلیٰ معیار کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ برسوں میں نجی تعلیمی اداروں کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث وہ معیار اور سماجی اثر حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے جو مضبوط عوامی تعلیمی نظام کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Highlights India’s Growing Self-Reliance: جوہری توانائی سے سیمی کنڈکٹر تک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سائنسی ورثے کو آگے بڑھا رہا ہے ہندوستان: وزیر اعظم مودی

ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی…

11 minutes ago

Jamia Students Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر احتجاج سے قبل سیکورٹی فورسیز کا مجمع، دفعہ 163 نافذ، کیمپس میں طلبا کے داخلے پر پابندی عائد

یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے…

44 minutes ago

PM Narendra Modi: ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں وزیر اعظم مودی نے عام لوگوں کے فائدے کے لیے تحقیق کے استعمال پر زور دیا: سائنسداں

سائنس دانوں کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے اے آئی اور دیگر ٹیکنالوجیز کو…

1 hour ago