نئی دہلی: جنوبی دہلی سے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے کہا ہے کہ دہلی کے پانچ لوک سبھا حلقوں میں واقع درجنوں قدیم دیہاتوں اور 92 کالونیوں پر 2010 میں مرکز اور دہلی کی اُس وقت کی کانگریس حکومتوں کی جانب سے عائد کیے گئے او-زون (O-Zone) کو ختم کرانے کے سلسلے میں انہوں نے شمال مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری کے ساتھ لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کی۔ رام ویر سنگھ بدھوڑی کے مطابق ملاقات کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کو اس معاملے سے متعلق تمام حقائق اور متاثرہ علاقوں کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ او-زون کے باعث تقریباً 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو رہے ہیں اور ان میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ متاثرین کو اپنے مکانات اور جائیدادوں کے مستقبل کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔ بدھوڑی کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے مسئلے پر ہمدردانہ انداز میں غور کرنے اور مناسب حل تلاش کرنے کا یقین دلایا ہے۔ واضح رہے کہ او-زون سے متعلق تنازع گزشتہ کئی برسوں سے دہلی کے مختلف دیہاتوں اور رہائشی کالونیوں میں ایک اہم عوامی مسئلہ بنا ہوا ہے، جہاں مقامی باشندے اس زون بندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
کیا ہے او-زون کا پورا معاملہ؟
دہلی میں ’’او-زون‘‘ (O-Zone) گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے لاکھوں باشندوں کے لیے ایک پیچیدہ اور متنازع مسئلہ بنا ہوا ہے۔ او-زون دراصل دریائے یمنا کے سیلابی میدانوں اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں سے متعلق زمین کے استعمال (Land Use) کی ایک درجہ بندی ہے، جسے 2010 میں دہلی کے ماسٹر پلان اور متعلقہ سرکاری پالیسیوں کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔ اس زون بندی کے بعد شمالی، شمال مشرقی، مشرقی، جنوبی اور شمال مغربی دہلی کے متعدد قدیم دیہات اور درجنوں آباد کالونیاں اس کے دائرے میں آ گئیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں مکینوں کو تعمیرات، جائیداد کی خرید و فروخت، نقشہ منظوری اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ کئی دیہات صدیوں سے آباد ہیں اور ان کی آبادی کو او-زون میں شامل کرنا نہ صرف زمینی حقائق کے خلاف ہے بلکہ اس سے لاکھوں لوگوں کے رہائشی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یمنا کے سیلابی میدانوں کا تحفظ دہلی کے ماحولیاتی توازن اور آبی وسائل کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ او-زون کا مسئلہ محض زمین یا تعمیرات کا معاملہ نہیں بلکہ شہری ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی حقوق کے درمیان توازن کا ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس معاملے نے ایک بار پھر سیاسی توجہ حاصل کی ہے، جب دہلی کے مختلف علاقوں کے عوامی نمائندوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کرکے قدیم دیہاتوں اور آباد کالونیوں کو او-زون سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مسئلے سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو رہے ہیں اور اس کا فوری حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے میں او-زون کی قانونی حیثیت، اس کے اثرات اور اس سے متعلق عوامی خدشات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…