قومی

Rajiv Shukla demands action: آئین سے بالاتر شریعت؛  کانگریس لیڈر راجیو شکلا بھی شمائل ندوی پر برہم

اللہ کے وجود پر مبنی مباحثے میں حصہ لینے والے مولانا مفتی شمائل ندوی کے خلاف ایکس پر ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے  ہوئے  کانگریس کے سینئر لیڈر راجیو شکلا نے لکھا، ’’اس مولانا کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ آئین سے بالاتر کچھ نہیں ہے۔‘‘ مولانا مفتی شمائل ندوی نے کہا تھا کہ ہمارے ملک  میں مسلمان غلط راستے پر چلتے رہے ہیں۔ دراصل مولانا ندوی کے مذکورہ  بیان والا ویڈیو شجاعت علی قادری نے ’ایکس‘ پر شیئر کیا تھا۔ اسے ری پوسٹ کرتے ہوئے راجیو شکلا نے کارروائی کی مانگ کی اور لکھا: ’’اس مولانا کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ آئین سے بالاتر کچھ نہیں ہے۔‘‘ مولانا مفتی شمائل ندوی نے کہا تھا کہ بھارت میں مسلمان غلط راستے پر چلتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ یہ سوچا کہ سیکولر حکومت اور سیاسی پارٹیاں ان کے مفاد میں ہوں گی، لیکن ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ اپنے دین سے اوپر آئین کو رکھتے آئے ہیں، لیکن ایسا کرنا غلط تھا۔ ندوی نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے موجودہ حالات درست ہو جائیں تو اس کا حل کسی سیاسی پارٹی میں نہیں بلکہ دین میں ہے۔ ہمارا اس ملک میں نقطۂ نظر غلط رہا۔ ہم یہ کہتے پھرے کہ ہمارا وطن ہمارے دین سے زیادہ مقدس ہے۔ ہم یہ کہتے رہے کہ سیکولر نظام ہمارے دین سے بہتر ہے۔ ہم یہ طے کرتے رہے کہ فلاں دربار سے فیصلہ ہو جائے گا تو ہم اسے قبول کر لیں گے۔ کیا ایسا کیا جا سکتا ہے؟ اگر کسی معاملے میں اللہ نے کوئی فیصلہ کر دیا ہے تو یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے بجائے کسی اور کی بات مانیں۔‘‘

مولانا مفتی شمائل ندوی کے بیان پر اعتراض

بتایا جا رہا ہے کہ مولانا مفتی شمائل ندوی کے بیان پر اعتراض اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے آئین اور ملک سے اوپر دین کو رکھنے کی بات کی ہے۔ پہلے بھی ایسے سوال اٹھتے رہے ہیں کہ آخر شدت پسند مسلمان ملک سے پہلے مذہب کی بات کیوں کرتے ہیں۔ ایسے میں مولانا  ندوی کے بیان نے یہ سوال دوبارہ کھڑا کر دیا ہے۔

اندرونی مسلکی اختلاف سے سیاست کا شکار ہوا  بیان؟

دراصل سب سے پہلے مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین شجاعت علی قادری نے اس معاملے پر سوال اٹھایا تھا۔شجاعت علی قادری نے لکھا تھا : ’’ہمارا راستہ وہابی شریعت نہیں ہے‘‘انہوں نے کہا:’’مولانا ندوی کا یہ بیان بھارت کے آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ بھارت کا مسلمان نہ تو ہندو رياست کا حامی ہے اور نہ ہی وہابی شریعت کے نام پر کسی مذہبی حکومت کا۔ ہمارا راستہ آئین، جمہوریت اور مساوی شہری حقوق ہیں۔ ایسے بیانات آرٹیکل 14، 15، 19 اور 25 کی روح کے خلاف ہیں اور BNS دفعہ 196 و 197 کے تحت قابل سزا ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

5 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

6 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

7 hours ago