Why was Vasudev Devnani Emotional in Rajasthan Assembly? راجستھان اسمبلی میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان تکرارمسلسل جاری ہے۔ اس درمیان، کانگریس کے ریاستی صدرگووند سنگھ ڈوٹاسرا کے بیان سے متعلق اسمبلی اسپیکرواسو دیونانی جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کئے گئے اوراخلاقیات کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پریہ الزام لگایا جاتا ہے کہ میں برسراقتدارکوبچا رہا ہوں، لیکن میں اپنی روح کی پاکیزگی سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی کوئی تعصب نہیں دکھایا اورنہ ہی کبھی کروں گا۔”
اسمبلی اسپیکرواسو دیونانی یہ کہتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور پانی پی کرخود کو سنبھالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے الفاظ سننے سے فطری طور پر تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کا وقار برقرار رکھنا سبھی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ سبھی اراکین آسن کا احترام کریں اور جمہوری روایات پرعمل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک عام کارکن تھے۔ کالج میں پڑھاتے تھے اورکبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچیں گے۔
ڈوٹاسرا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اسپیکرکے بیان کے بعد برسراقتدار پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی نے گووند سنگھ ڈوٹاسرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کچھ اراکین اسمبلی نے تویہ تک کہہ دیا کہ ڈوٹاسرا کے الیکشن لڑنے پرتاعمرپابندی لگانی جانی چاہئے۔ وہیں، گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی گیتا پرہاتھ رکھ کریہ ثابت کردے کہ ان کی معافی کی بات ہوئی تھی، تووہ سیاست چھوڑدیں گے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
منگل کے روزجیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی، کانگریس اراکین اسمبلی نے اسمبلی احاطے کے باہردھرنا دیا اورنعرے بازی شروع کردی۔ حالانکہ کانگریس کے بائیکاٹ کے باوجود ایوان کے اندروقفہ سوال کی کارروائی جاری رہی۔ کانگریس نے سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے وزیراویناش گہلوت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اورکانگریس ایم ایل اے کی معطلی واپس لینے کی بھی اپیل کی۔ اسمبلی میں تعطل ختم کرنے کے لئے اسپیکرواسودیونانی کے کمرے میں بی جے پی اورکانگریس لیڈران کے درمیان کئی دور کی میٹنگیں ہوئیں، لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ بی جے پی اوراسپیکراس بات سے متفق نہیں تھے کہ معطل اراکین اسمبلی اور کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کا رخ صحیح تھا۔
تنازعہ کی وجہ کیا تھی؟
دراصل، جمعہ کے روز وقفہ سوال کے دوران سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے وزیراویناش گہلوت نے کام کرنے والی خواتین کے لئے ہاسٹل سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”24-2023 کے بجٹ میں بھی آپ نے ہربارکی طرح اپنی ’دادی‘ اندرا گاندھی کے نام پر اس اسکیم کا نام رکھا تھا۔“
کانگریس کا احتجاج اور دھرنا
اس بیان سے متعلق ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ کانگریس کے ریاستی صدرگووند سنگھ ڈوٹاسرا سمیت 6 کانگریس اراکین اسمبلی رام کیش مینا، امین کاغذی، ذاکرحسین، حاکم علی اورسنجے کمارکوایوان سے معطل کردیا گیا۔ معطلی سے متعلق کانگریس اراکین اسمبلی نے رات بھردھرنا دیا اورمعطلی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ بی جے پی اوراسپیکراس موضوع پرکوئی نرمی برتنے کے حق میں نہیں نظرآئے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اسمبلی میں یہ تعطل کیسے ختم ہوگا؟ اب دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ کیا کانگریس کے مطالبات ختم کئے جائیں گے یا نہیں؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ ٹیم مقابلے میں سُروچی سنگھ اور کمل جیت نے 484.6…
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…