نئی دہلی: دنیا کی نظریں اس وقت نئی دہلی پر مرکوز ہیں، جہاں رائسینا ڈائیلاگ 2026 کا گیارہواں ایڈیشن شروع ہو چکا ہے۔ یہ عالمی سطح پر جیو پولیٹکس اور جیو اکنامکس کا سب سے بڑا فورم ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔ تقریب میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھی مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت پر زور دیا۔
افتتاحی سیشن اور صدر اسٹب کا خطاب
وزیراعظم مودی نے افتتاحی سیشن کے دوران کہا کہ یہ تقریب عالمی مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے سرکاری ہینڈل پر شیئر کیا، ”رائسینا ڈائیلاگ 2026 کے افتتاحی سیشن میں حصہ لیا اور صدر الیگزینڈر اسٹب کا علم افزا خطاب سنا، جس میں متعدد عالمی موضوعات پر روشنی ڈالی گئی“۔ صدر اسٹب نے عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی اور ‘گلوبل ساؤتھ’ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس تبدیلی میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں مضبوط، خود مختار اور مستحکم ممالک کی ضرورت ہے جو عالمی مسائل پر متوازن موقف اختیار کریں۔
بدلتی دنیا، نیا بھارت اور ‘سنسکار’ کی تھیم
اس سال رائسینا ڈائیلاگ کی تھیم ”سنسکار: اسیرشن، اکیوموڈیشن، ایڈوانسمنٹ“ رکھی گئی ہے۔ یہ تھیم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح دنیا آج خودمختاری، بدلتے اتحادوں اور ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہی ہے۔ افتتاحی سیشن میں وزیر اعظم مودی اور صدر اسٹب کے ساتھ کئی عالمی لیڈروں نے حصہ لیا اور عالمی حکمت عملی، توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور دفاعی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
تکنیک اور سفارتکاری کا امتزاج
افتتاحی سیشن میں اے آئی، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے اہم موضوعات پر بات ہوئی۔ صدر اسٹب نے ‘ویلیو بیسڈ رئیلزم’ پر زور دیا اور بھارت کے ہزاروں سالہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر آوازن کا متوازن ہونا آج کی ضروریات میں شامل ہے۔
رائسینا ڈائیلاگ کی اہمیت
یہ ڈائیلاگ صرف لیڈروں کی بات چیت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں 110 ممالک کے پالیسی ساز، عسکری کمانڈر، کاروباری لیڈر اور تکنیکی ماہرین ایک ساتھ آتے ہیں۔ اس سال تقریب میں 2,700 سے زائد شرکاء حصہ لے رہے ہیں۔ تین دن کے اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی، سمندری سلامتی اور تجارتی محصولات جیسے عالمی مسائل پر غور کیا جائے گا، جو نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کو متاثر کریں گے۔
بھارت کی عالمی پوزیشن
وزیر اعظم مودی نے رائسینا ڈائیلاگ کے موقع پر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت نہ صرف ایک بڑھتی ہوئی اقتصادی اور سیاسی طاقت ہے بلکہ ‘گلوبل ساؤتھ’ کے ممالک کے لیے لیڈر کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ یہ اجلاس بھارت کی عالمی قیادت اور عالمی مسائل میں اس کے فعال کردار کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…