اتر پردیش کے امروہہ ضلع کے گجرولا میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی ٹیم نے ملاوٹ اور غیر قانونی طور پر چلنے والے غذائی مراکز کے خلاف بڑی کارروائی کی۔ ٹیم نے ایک مکان میں بغیر لائسنس چلنے والی برفی بنانے کی فیکٹری پر چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں مشتبہ مٹھائی برآمد کی۔ کارروائی کے بعد علاقے میں ہلچل مچ گئی۔
بغیر لائسنس چل رہی تھی فیکٹری
فوڈ سیفٹی محکمہ کی ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ گجرولا علاقے میں ایک مکان کے اندر غیر قانونی طور پر برفی بنانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر افسران موقع پر پہنچے اور چھاپہ مارا۔ جانچ کے دوران انکشاف ہوا کہ فیکٹری کو ضروری لائسنس کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔چھاپے کی خبر ملتے ہی فیکٹری کا آپریٹر جاوید، جو میرٹھ کا رہائشی بتایا گیا ہے، موقع سے فرار ہو گیا۔ محکمہ کی ٹیم نے موقع پر موجود غذائی اشیا اور تیار مٹھائی کی جانچ شروع کر دی۔
7 کوئنٹل سے زائد برفی برآمد
کارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیم نے موقع سے سوجی سے تیار کی گئی 7 کوئنٹل سے زائد برفی برآمد کی۔ حکام کے مطابق برآمد شدہ مٹھائی کا معیار مشتبہ تھا۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ مٹھائی چند ہی گھنٹوں میں خراب ہو سکتی تھی۔ فوڈ سیفٹی افسر ونے کمار اگروال نے بتایا کہ موقع سے برآمد مٹھائی کھانے کے قابل نہیں پائی گئی۔ حکام کے مطابق مشتبہ معیار کی ایسی مٹھائی کا استعمال لوگوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
جے سی بی سے گڑھا کھدوا کر مٹھائی تلف
مٹھائی کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے فوڈ سیفٹی محکمہ کی ٹیم نے موقع پر جے سی بی کی مدد لی۔ جے سی بی سے گڑھا کھدوایا گیا اور برآمد شدہ بڑی مقدار میں برفی کو اس میں ڈال کر تلف کر دیا گیا۔ محکمہ کی کارروائی کا مقصد مشتبہ مٹھائی کو بازار تک پہنچنے سے روکنا تھا۔
آپریٹر کی تلاش، جانچ جاری
فوڈ سیفٹی محکمہ اب فیکٹری کے آپریشن، لائسنس اور وہاں تیار کی جانے والی مٹھائی کے معیار سے متعلق دیگر پہلوؤں کی جانچ کر رہا ہے۔ افسران کی ٹیم یہ بھی معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ بغیر لائسنس چلنے والی اس فیکٹری سے مٹھائی کہاں کہاں سپلائی کی جاتی تھی۔وہیں، موقع سے فرار ہونے والے فیکٹری آپریٹر جاوید کی تلاش کی جا رہی ہے۔ محکمہ کی کارروائی کے بعد علاقے میں بغیر لائسنس غذائی کاروبار کرنے والوں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…