نئی دہلی : کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو نئی دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقدہ ’’رچناتمک کانگریس کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت، وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ سرمایہ داروں نے آر ایس ایس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس کے لوگوں کو ہندوستان کی کوئی سمجھ نہیں ہے اور ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے کہا کہ انہیں نظریاتی طور پر مضبوط رہتے ہوئے اپنے خیالات کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ پر بھی کئی براہ راست حملے کیے گئے۔کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں مبینہ طور پر 20 دن تک عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن کے کردار کو اہم قرار دیا۔
मोदी की विदेश नीति = नेताओं के गले पड़ना pic.twitter.com/z7ILbzTceS
— Congress (@INCIndia) August 14, 2026
راہل گاندھی کے ان بیانات کے بعد بی جے پی نے ان کے خلاف سخت محاذ کھول دیا۔ پارٹی کے متعدد لیڈروں نے ان کے بیان اور انداز کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے تو راہل گاندھی کی ذہنی حالت پر ہی سوال اٹھا دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راہل گاندھی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا لوگوں کو لگتا ہے کہ راہل گاندھی کی ذہنی حالت درست ہے؟ انہوں نے رانچی کے کانکے علاقے کا بھی حوالہ دیا۔بی جے پی لیڈر اسمرتی ایرانی نے بھی راہل گاندھی کا نام لیے بغیر ایک طنزیہ پوسٹ کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ جو بلندیوں تک نہیں پہنچ پاتے، وہ ناشائستہ رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جو دلیلوں سے ہار جاتے ہیں، وہ شائستگی اور وقار کی تمام حدیں پار کردیتے ہیں۔
आपको लगता है कि राहुल गांधी जी की मानसिक स्थिति ठीक है? झारखंड के राँची में कांके इनके लिए ठीक जगह है pic.twitter.com/skrSEXtSkA
— Dr Nishikant Dubey (@nishikant_dubey) August 13, 2026
راجیہ سبھا کے رکن اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ونود تاوڑے نے راہل گاندھی کے تبصروں کو توہین آمیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قائد حزب اختلاف کی جانب سے کسی خودمختار ملک کی سربراہ اور ہندوستان کے وزیر اعظم کے بارے میں نامناسب تبصرے انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان کے مطابق خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے معاملے میں اس طرح کا رویہ بھارتی سیاست کو شرمسار کرنے والا ہے۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بھی راہل گاندھی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی خاندانی قیادت نے ایک بار پھر شائستگی کی تمام حدیں پار کردی ہیں۔ سرما کے مطابق ایک دوست ملک کی خاتون سربراہ کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا، جو نہ صرف سیاسی بدتمیزی ہے بلکہ بھارت کے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ راہل گاندھی میں مایوسی اور بے چینی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے، وہ سیاسی شائستگی کے اصولوں کے منافی ہے۔ جوشی کے مطابق اختلاف رائے کے باوجود وزیر اعظم یا اپوزیشن لیڈر سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کے لیے بنیادی احترام اور مہذب زبان برقرار رہنی چاہیے۔دریں اثنا، شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر ہوئے حملے پر بھی پرہلاد جوشی نے ردعمل دیا۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے سکھبیر بادل پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…