کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: وقف ترمیمی بل بھلے ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہوگیا ہے، لیکن اس پرتنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اس بل سے متعلق احتجاج کر رہے ہیں۔ اس درمیان راہل گاندھی نے وقف بل سے متعلق حکومت پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے سوال کھڑے کئے ہیں۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک خبرشیئرکرتے ہوئے لکھا کہ میں نے کہا تھا کہ وقف بل ابھی مسلمانوں پرحملہ کرتا ہے، لیکن مستقبل میں دیگرطبقات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وقف کے بعد اب آرایس ایس کی نظرعیسائیوں کی طرف جانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ آئین ہی واحد ڈھال ہے جو ہمارے لوگوں کو ایسے حملوں سے بچاتا ہے اوراس کا تحفظ کرنا ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پرخبرشیئرکی
راہل گاندھی نے جس خبرکوشیئرکیا ہے، اس میں لکھا کہ پارلیمنٹ میں وقف بل منظور ہونے کے بعد آرایس ایس کا دھیان کیتھولک چرچ کی زمین پرچلی گئی ہے۔ ٹیلی گراف کی خبرشیئرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا کہ میں نے کہا تھا کہ وقف بل مسلمانوں پرحملہ کرتا ہے، لیکن مستقبل میں دوسری برادریوں کو نشانہ بنانے کی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ آرایس ایس کوعیسائیوں کی طرف توجہ دلانے میں زیادہ دیرنہیں لگی۔ آئین ہی واحد راستہ ہے، جو ہمارے لوگوں کو ایسے حملے سے بچاتا ہے۔
پارلیمنٹ میں پاس ہوا وقف ترمیمی بل
وقف بورڈ ترمیمی بل، 2024 کو لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا نے منظورکردیا ہے۔ تقریباً 12 گھنٹے کی میراتھن بحث کے بعد وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس ہوا۔ لوک سبھا میں بل کی حمایت میں 288 ووٹ پڑے تو وہیں اس کے خلاف 232 ووٹ پڑے۔ وہیں راجیہ سبھا میں وقف بل کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کو بولنے کے لئے 45 منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ لوک سبھا میں اس بل پربحث کے دوران جم کر ہنگامہ دیکھنے کو ملا تھا۔ حالانکہ بعد میں اسے منظور کرلیا گیا۔ اس بل کواب صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ ان کی رضا مندی کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
وقف ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں دیا گیا چیلنج
راجیہ سبھا میں جمعرات کو بل منظورہونے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا تھا کہ کانگریس سپریم کورٹ جائے گی۔ تمل ناڈومیں برسر اقتدار پارٹی ڈی ایم کے نے بھی عرضی لگانے کی بات کہی تھی۔ وہیں دوسری جانب، کانگریس کے کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سب سے پہلے عرضی داخل کی تھی۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورحیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…