قومی

Energy Security Compromised: ’’پارلیمنٹ میں ایل پی جی کی قلت کے مسئلے پر بیان دینے کی اجازت نہیں دی گئی‘‘ ایل پی جی کی کمی پر راہل گاندھی کا اظہار تشویش

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے درمیان ایل پی جی کی ممکنہ قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس بحران سے نمٹنے کی تیاری شروع کرے اور اپنی سوچ میں تبدیلی لائے۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں پارلیمنٹ میں ایل پی جی کی قلت کے مسئلے پر بیان دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ راہل گاندھی کے مطابق عام طور پر کسی رکن کو کسی اہم مسئلے پر بولنے کی اجازت طلب کرنے کا حق ہوتا ہے، اسی لیے انہوں نے ملک میں ایل پی جی اور تیل کی صورتحال پر بیان دینے کی اجازت مانگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے جس کے تحت پہلے وزیر فیصلہ کرے گا، پھر وہ بات کریں گے اور اس کے بعد وزیر جواب دیں گے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو ایل پی جی بحران کا مسئلہ اٹھانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ جب پیٹرولیم کے وزیر ایوان میں موجود ہوں گے تو اس معاملے پر بحث کی جا سکتی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے بھی اسی طرح کی رائے کا اظہار کیا۔

توانائی سلامتی متاثر ہونے کا دعویٰ

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی کا مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کے مفادات اور توانائی کی ضروریات محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے کیونکہ بھارت کی توانائی سلامتی متاثر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق غلط خارجہ پالیسی نے اس صورتحال کو جنم دیا ہے اور اگر حکومت نے فوری تیاری نہ کی تو کروڑوں لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ موجودہ جنگ صرف اس بات کا مسئلہ نہیں ہے کہ ایران ایندھن فراہم کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ موجودہ عالمی نظام سے جڑا ایک بڑا معاملہ ہے اور دنیا ایک غیر یقینی دور میں داخل ہو رہی ہے۔

حکومت کا موقف

دوسری جانب وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت کے اقدامات کے بعد ملک میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دستیاب پیداوار کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسی دوران وزارتِ داخلہ نے صورتحال کی نگرانی کے لیے ایک کنٹرول روم کو چوبیس گھنٹے فعال کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

57 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

1 hour ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago