قومی

Raghav Chadha Lost 1 Million Followers in 24 Hours: راگھو چڈھا کو بی جے پی کا ساتھ دینا پڑ گیا ‘مہنگا’! 24 گھنٹوں میں کھو دیے 10 لاکھ فالوورز، کیا ‘جین-زی’ کو پسند نہیں آیا یہ فیصلہ؟

سیاست کی بساط پر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد اگرچہ راگھو چڈھا نے ایک نیا راستہ اختیار کر لیا ہے، لیکن ڈیجیٹل دنیا میں انہیں شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے 7 اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہونے کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر راگھو چڈھا کی مقبولیت کے گراف میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق انسٹاگرام پر ان کے تقریباً 10 لاکھ فالوورز کم ہو گئے ہیں۔ نوجوانوں اور ’جین-زی‘ کے درمیان اپنی خاص پہچان رکھنے والے راگھو کے اس قدم کو ان کے ڈیجیٹل مداحوں نے ’غداری‘ کے طور پر لیا ہے۔

انسٹاگرام پر دکھا عوام کا ’غصہ‘

انسٹاگرام پر عوام کا ’غصہ‘ صاف نظر آ رہا ہے۔ جمعہ تک راگھو چڈھا کے انسٹاگرام پر 14.6 ملین فالوورز تھے، جو ہفتے کی دوپہر تک کم ہو کر 13.5 ملین رہ گئے۔ این سی پی (ایس پی) کے ترجمان انیش گاوانڈے نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ آپ کو راتوں رات ہیرو بھی بنا سکتا ہے اور مٹی میں بھی ملا سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر #UnfollowRaghavChadha تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ماؤنٹ ایلبرس سر کرنے والے روہتاش کھلیری جیسے کئی اثر و رسوخ رکھنے والے انفلوئنسرز نے بھی انہیں ان فالو کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

’عوامی لیڈر‘ والی شبیہ کو شدید دھچکا لگا ؟

یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ’عوامی لیڈر‘ والی ان کی شبیہ کو شدید دھچکا لگا ہے؟ راگھو چڈھا نوجوانوں میں اس لیے مقبول تھے کیونکہ وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر مسائل اٹھاتے تھے۔ حال ہی میں ان کا ’بلنک اٹ ڈلیوری پارٹنر‘ بن کر ڈیلیوری ورکرز کے مسائل سمجھنا اور 10 منٹ ڈیلیوری کے اصول پر نظرثانی کرانے کی کوشش ان کے کیریئر کا اہم موڑ سمجھا جا رہا تھا۔اب صارفین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ اچانک رخ بدلنا شاید صرف ایک ’سیاسی اسٹنٹ‘ تھا۔

کیا بی جے پی کا انتخاب کرنا پڑا بھاری؟

جب انہیں ریاستی راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو انہیں سوشل میڈیا پر کافی ہمدردی ملی تھی۔ کچھ صارفین نے انہیں اپنی الگ ’جین-زی پارٹی‘ بنانے کا مشورہ بھی دیا تھا، جسے انہوں نے دلچسپ خیال قرار دیا تھا۔تاہم اس کے باوجود انہوں نے نئی پارٹی بنانے کے بجائے بی جے پی کا دامن تھام لیا، جسے ان کے بنیادی نوجوان حمایتی قبول نہیں کر پا رہے۔ دوسری جانب بی جے پی میں شامل ہوتے ہی راگھو چڈھا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی “صفائی” بھی شروع کر دی ہے اور ماضی میں پی ایم مودی اور بی جے پی پر تنقید والے کئی پوسٹس حذف کر دیے ہیں۔ اس پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر سورو بھاردواج نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے پروفائل پر صرف دو پوسٹس بچی ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں میں وزیراعظم کی تعریف کی گئی ہے۔ ان کے اس ’دل کی تبدیلی‘ کو سوشل میڈیا صارفین ہضم نہیں کر پا رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

12th BRICS Parliamentary Forum: بارہویں برکس پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی وفد وطن واپس روانہ

بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…

43 minutes ago

India invites Pakistan for SCO forum in Delhi: آپریشن سندور کے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم میں شرکت کی دعوت دی

پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…

2 hours ago

Cyclone ‘Arnab’: آندھرا پردیش سے ٹکرایا سمندری طوفان ’ارنَب‘، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں ہوائیں، 50 ٹرینیں اور 21 پروازیں منسوخ

سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…

3 hours ago