نئی دہلی: راجیہ سبھا کے رکن راگھوچڈھا نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اپنے فیصلے کی وجوہات عوام کے سامنے رکھ دی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ طویل غور و فکر کے بعد لیا گیا ہے۔ویڈیو پیغام میں راگھو چڈھا نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات موصول ہو رہے تھے، جن میں کچھ لوگ انہیں مبارکباد دے رہے تھے جبکہ کئی افراد ان کے اس فیصلے کے پیچھے کی وجوہات جاننا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے وضاحت پیش کرنے کے لیے یہ ویڈیو شیئر کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے قبل وہ ایک کامیاب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے اور ان کے سامنے ایک روشن کیریئر موجود تھا، مگر انہوں نے سب کچھ چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ پارٹی کے بانی ارکان میں شامل رہے اور تقریباً 15 برس تک اپنی محنت اور لگن سے اسے مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ تاہم ان کے مطابق اب پارٹی اپنی اصل روح سے ہٹ چکی ہے۔راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی میں اس وقت ایک “زہریلا ماحول” پیدا ہو چکا ہے، جہاں نہ صرف کام کرنے میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے بلکہ پارلیمنٹ میں بولنے تک سے روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اب چند ایسے افراد کے کنٹرول میں آ گئی ہے جو قومی مفاد کے بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ انہیں کافی عرصے سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ وہ “صحیح انسان مگر غلط پارٹی” میں ہیں۔ ان کے سامنے تین راستے تھے: سیاست چھوڑ دینا، اسی پارٹی میں رہ کر اصلاح کی کوشش کرنا، یا پھر کسی نئے پلیٹ فارم کے ذریعے مثبت سیاست کرنا۔ انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کیا۔راگھو چڈھا نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اکیلے نہیں لیا بلکہ ان کے ساتھ دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کل سات اراکین نے مل کر پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے الفاظ میں، “ایک آدمی غلط ہو سکتا ہے، دو بھی غلط ہو سکتے ہیں، لیکن سات لوگ غلط نہیں ہو سکتے۔”
راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے ایک مثال دی کہ اگر کسی دفتر کا ماحول ایسا ہو جائے جہاں کام کرنے نہ دیا جائے، محنت کو دبایا جائے اور آواز کو خاموش کر دیا جائے، تو کوئی بھی شخص ایسی جگہ چھوڑنے کا فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھی یہی قدم اٹھایا ہے۔آخر میں راگھو چڈھا نے یقین دلایا کہ وہ عوام کے مسائل کو پہلے سے زیادہ توانائی اور عزم کے ساتھ اٹھائیں گے اور اب انہیں حل کرانے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…
روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…
موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…