قومی

RSP Chairperson Rabi Lamichhane: بھارت کا دورہ مکمل کرکے نیپال واپس لوٹے روی لامیچھانے وزیر اعظم مودی کو کٹھمنڈو آنے کی دی دعوت

نئی دہی : نیپال کی حکمران جماعت نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (آر ایس پی) کے صدر روی لامیچھانے نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر نتن نوین کو نیپال کے دورے کی دعوت دی ہے۔ پانچ روزہ بھارت یاترا مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو کٹھمنڈو واپس پہنچنے پر تری بھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں بھارتی رہنماؤں نے اس دعوت پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔روی لامیچھانے نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی قیادت کو نیپال آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے اور دونوں رہنما اس تجویز کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مناسب وقت اور سازگار حالات میں یہ دورہ یقینی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ لامیچھانے بی جے پی صدر نتن نوین کی دعوت پر بھارت گئے تھے، جہاں انہوں نے کئی اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور بی جے پی کے متعدد سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی ترقی اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ کے متوقع دورۂ بھارت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں روی لامیچھانے نے کہا کہ کسی بھی اعلیٰ سطحی سفارتی دورے کا وقت حالات، ترجیحات اور باہمی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بالیندر شاہ کے بھارت جانے کے بارے میں فیصلہ بھی مناسب وقت آنے پر کیا جائے گا۔

لامیچھانے نے نئی دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک استقبال کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عزت صرف ان کی جماعت یا ان کی ذات کے لیے نہیں تھی بلکہ پورے نیپال اور نیپالی عوام کے لیے احترام کا اظہار تھا۔ ان کے مطابق اس طرح کے سفارتی روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔بھارت-نیپال تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے روی لامیچھانے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہونے والی ملاقات مکمل طور پر شفاف رہی اور اس کا مرکز ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب نیپال اور بھارت اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے راستے پر ایک ساتھ آگے بڑھیں گے تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ملاقاتوں کے دوران کھیل، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ لامیچھانے کے مطابق موجودہ نیپالی حکومت ماضی کی پالیسی کمزوریوں سے آگے بڑھتے ہوئے ترقی پر مبنی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔دریں اثنا، نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال بھی اپنے پہلے سرکاری دورۂ بھارت پر نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سمیت کئی اہم دوطرفہ امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیاں بھارت اور نیپال کے تعلقات میں ایک نئے اور مثبت مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

3 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

4 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

5 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

6 hours ago