قومی

Child Safety In Schools: ’صرف ایک کتاب نہ لانے کی سزا… موت!‘ دہلی کے سرکاری اسکول میں 10 سالہ بچی کو یہ کیسی سزا؟

نئی دہلی: دہلی کے مشرقی ونود نگر میں واقع سروودیا کنیا ودیالیہ میں 10 سالہ بچی کی موت کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ 27 اگست کو اسکول میں کتاب نہ لانے پر بچی کو مبینہ طور پر شدید دھوپ میں کھڑا کیا گیا، جس کے بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ علاج کے دوران بچی نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ معاملے پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر ایک معصوم بچی کو صرف کتاب نہ لانے پر ایسی سزا کیوں دی گئی اور کیا اسکول انتظامیہ نے بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں غفلت برتی؟

اہل خانہ نے سنائی اس دوپہر کی پوری داستان

اہل خانہ کے مطابق 27 اگست کو بچی اسکول پہنچی تھی۔ الزام ہے کہ کتاب نہ لانے پر ایک خاتون ٹیچر نے اسے ڈانٹا اور پھر دونوں ہاتھ اوپر کروا کر تیز دھوپ میں کھڑا کر دیا۔ کچھ دیر بعد بچی کی طبیعت بگڑنے لگی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ نے اسے فوری طور پر اسپتال لے جانے کے بجائے اس کی والدہ انجلی کو فون کرکے اسکول بلایا۔ والدہ کے مطابق جب وہ اسکول پہنچیں تو ان کی 10 سالہ بیٹی شدید خراب حالت میں دھوپ میں کھڑی تھی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بچی کو بروقت ابتدائی طبی امداد یا طبی سہولت فراہم کی جاتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ بعد میں اسے علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت ہو گئی۔

اسکول کے باہر اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا احتجاج

بچی کی موت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم و غصہ پھیل گیا۔ پیر کے روز بچی کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے سروودیہ کنیا ودیالیہ کے باہر احتجاج کیا اور اسکول کا تقریباً دو گھنٹے تک گھیراؤ کیا۔ مشتعل مظاہرین نے مبینہ طور پر ذمہ دار ٹیچر اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے۔ بچی کی والدہ اور دیگر اہل خانہ روتے رہے، جس سے موقع پر موجود ماحول انتہائی غمگین ہو گیا۔

وزیر تعلیم آشیش سود نے کیا کہا؟

معاملہ شدت اختیار کرنے کے بعد دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے بچی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس واقعے کو ’انتہائی دردناک اور سنگین معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وزیر تعلیم کے مطابق کسی بھی طرح کے اثر و رسوخ یا دباؤ کو روکنے کے لیے مبینہ طور پر ذمہ دار ٹیچر کا فوری طور پر تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی رویندر سنگھ نیگی بھی موقع پر پہنچے اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے انہیں تسلی دی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر تحقیقات میں اسکول کا کوئی ملازم قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

’نو کارپورل پنشمنٹ‘ پر اٹھے سوالات

اس واقعے کے بعد اسکولوں میں بچوں کو جسمانی یا ذہنی سزا دینے کے خلاف موجود قوانین اور ہدایات پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی عائد ہے، جبکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ ادارے بھی وقتاً فوقتاً سخت ہدایات جاری کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسکولوں سے بچوں کو مارنے، دھوپ میں کھڑا کرنے یا دیگر توہین آمیز سزائیں دینے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ دہلی کے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ایک بچی کا کتاب گھر بھول جانا اتنا بڑا قصور تھا کہ اسے ایسی سزا دی جائے جو اس کی جان کے لیے خطرہ بن جائے؟ معاملے کی حقیقت اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا، لیکن اس واقعے نے اسکولوں میں بچوں کی حفاظت اور سزا کے طریقہ کار پر سنجیدہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

All India Unani Tibbi Congress: مدرسہ چچا نہرو علی گڑھ میں آل انڈیا یونانی طینی کانگریس کی جانب سے 159 ویں مفت یونانی طبی کیمپ کا انعقاد

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…

37 minutes ago

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

3 hours ago