قومی

Cockroach Janata Party Protest: مظاہرہ ختم کریں، سی جے پی وفد سے ملاقات کے بعد مرکزی وزیر جے پی نڈا کا بیان

نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ایک نمائندہ وفد نے پیر کو مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد جے پی نڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور انہوں نے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔جے پی نڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ آج صبح پہلی بار مظاہرین کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز موصول ہوئی، جس کے بعد صبح 11:50 بجے سے مسلسل بات چیت جاری رہی۔ ان کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، ابتدا میں زبانی طور پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ شام تقریباً چار بجے مظاہرین کے وفد نے اپنی تحریری عرضداشت بھی انہیں سونپ دی۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا دھرنا ختم کریں اور معمول کی صورتحال بحال کرنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔تاہم سی جے پی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی گئی، اس لیے احتجاج ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، پرامن تحریک جاری رہے گی۔ملاقات کے بعد سی جے پی کے نمائندے سوربھ داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرکزی وزیر کے سامنے تنظیم کے اہم مطالبات رکھے، جن میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفیٰ یا انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ سرفہرست ہے۔ ان کے مطابق جے پی نڈا نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ سطح پر اٹھائیں گے، لیکن فی الحال کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا گیا۔

سی جے پی کی جانب سے پیش کیے گئے یادداشت میں کہا گیا ہے کہ تنظیم 6 جون سے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر پرامن احتجاج کر رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق 20 جون سے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کا دھرنا جاری ہے، جس میں ماہر تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی شامل ہوئے تھے۔ یادداشت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی ردعمل نہ ملنے پر سونم وانگچک نے 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کی، جو 20 جولائی تک جاری رہی۔تنظیم نے اپنے یادداشت میں الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے دورِ وزارت میں کئی اہم امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، تکنیکی خرابیاں اور انتظامی بے ترتیبی سامنے آئی۔ سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ نیٹ 2026 کے مبینہ پیپر لیک کے بعد ان کے ریکارڈ کے مطابق 21 امیدواروں نے خودکشی کی۔

تنظیم نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں سونم وانگچک کی رہائی اور ان کی نقل و حرکت پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا برطرفی، اور نیٹ 2026 کے مبینہ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینا شامل ہے۔سی جے پی نے دہلی پولیس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان مطالبات پر مؤثر کارروائی نہیں کرتی، ان کا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

55 minutes ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

2 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago