نئی دہلی: راجیہ سبھا میں جمعہ کو بھی اپوزیشن ارکان کی زبردست نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ ایوان میں اس وقت شور بڑھ گیا جب وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان ایک سوال کا جواب دے رہے تھے، جس پر چیئر پر موجود بی جے پی رکن گھنشیام تیواری نے کارروائی 28 جولائی تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے ایوان میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کئی اراکین اپنی مخصوص نشستوں پر موجود نہیں تھے اور بولنے والے اراکین کو بار بار روک رہے تھے، جو کہ ایوان کی روایات اور اراکین کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔
اپوزیشن کی مخالفت اور Rule 267 کے تحت مطالبہ
اپوزیشن اراکین نے بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو رویژن (SIR) پر بحث کے لیے کاروبار معطل کرنے کی درخواست دی تھی، جو ڈپٹی چیئرمین نے مسترد کر دی۔ کانگریس کی رکن رینوکا چودھری اور دیگر نے Rule 267 کے تحت نوٹس دائر کرتے ہوئے اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے انتخابی فہرستوں میں غیر شفاف تبدیلی کی کوشش ہے۔ کانگریس کے دیگر رہنما اکھلیش پرساد سنگھ، رنجیت رنجن، اشوک سنگھ، نیرج ڈانگی اور راجنی پاٹل نے بھی اسی معاملے پر ایوان میں بات چیت کا مطالبہ کیا۔
کمل ہاسن سمیت کئی نئے ارکان کی حلف برداری
ایوان بالا میں جمعہ کو اداکار اور مکّل نیدھی مایم (MNM) کے سربراہ کمل ہاسن نے تمل زبان میں راجیہ سبھا کی رکنیت کا حلف لیا۔ ان کے علاوہ DMK کے راجتھی، ایس آر سیوالنگم اور پی ولسن نے بھی راجیہ سبھا رکن کی حیثیت سے حلف برداری کی۔
لوک سبھا میں بھی ہنگامہ، کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی
ادھر، لوک سبھا میں بھی اپوزیشن کے نعرے بازی اور پلے کارڈز لہرانے کے سبب اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی۔ انہوں نے ایوان کو معمول کے مطابق چلانے کی اپیل کی اور کہا کہ ’’احتجاج درج کرانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، اگر ایوان چلانے کا ارادہ نہیں ہے تو پھر کارروائی ملتوی کی جاتی ہے۔‘‘
پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کا مظاہرہ
اس دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج میں حصہ لیا، جو بہار کے ووٹر لسٹ SIR عمل کے خلاف پانچویں دن بھی جاری رہا۔ مظاہرے میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اراکین پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں ’’SIR- Attack on Democracy‘‘ جیسے نعرے درج بینرز اور پلے کارڈز تھے۔
اپوزیشن کا حکومت پر حملہ
اپوزیشن اتحاد انڈیا (INDIA) بلاک کے اراکین نے مرکز پر جمہوریت پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف اس مسئلے پر ایوان میں بیان دیں بلکہ پہلگام حملہ اور مبینہ آپریشن سندور کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنگ بندی دعوے پر بھی صفائی پیش کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…