قومی

Priyanka Chaturvedi: بی جے پی میں شمولیت کی خبروں پر پہلی بار کھل کر بولیں پرینکا چترویدی، ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صاف الفاظ میں اپنی پوزیشن واضح کر دی

نئی دہلی :شیوسینا یو بی ٹی کی لیڈراور راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی خبروں پر پہلی بار کھل کر اپنی بات رکھی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ راجیہ سبھا کی مدت مکمل ہونے کے بعد پرینکا چترویدی ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ سکتی ہیں اور بی جے پی میں شامل ہونے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس اور دعووں میں کہا جا رہا تھا کہ پرینکا چترویدی جلد ہی بی جے پی کا دامن تھام سکتی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہےکہ  اب انہوں نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صاف الفاظ میں اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔

پرینکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ان کی تصویر استعمال کرکے اپنی من گھڑت کہانیاں اور نظریات پھیلاتے ہیں تاکہ ان کی پوسٹس پر زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی لوگ جھوٹی خبریں اس لیے پھیلاتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں مالی فائدہ ہوتا ہے۔ پرینکا کے مطابق وہ ایسے لوگوں کے “پیٹ پر لات” نہیں مارنا چاہتیں، اسی لیے اب تک خاموش تھیں۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں خاموشی کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، اسی لیے انہوں نے ان افواہوں پر کھل کر جواب دینا ضروری سمجھا۔

شیوسینا یو بی ٹی لیڈرنے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کے خلاف کافی عرصے سے مختلف قسم کی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں، لیکن انہوں نے انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اب انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا بی جے پی میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر چل رہی باتیں محض افواہیں ہیں۔اس سے پہلے پرینکا چترویدی نے مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے پرسنل اسسٹنٹ چندرناتھ رتھ کے قتل کے معاملے پر بھی ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی نتائج کی بنیاد پر سیاسی تشدد کسی بھی صورت میں درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔پرینکا چترویدی نے کہا تھا کہ جمہوریت میں اختلافات اپنی جگہ، لیکن تشدد اور قتل جیسے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کے بعد امن اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ دشمنی اور تشدد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi in Banaskantha: ہمارے کسان ترقی یافتہ ہندوستان کی مضبوط بنیاد اور ملک کی ترقی کے سب سے بڑے ستون ہیں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نے گجرات کے بناس کانٹھا میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح…

37 minutes ago

Mokama MLA Anant Singh: دلار چند یادو قتل معاملے میں اننت سنگھ کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے سرینڈر کرنے کا دیا حکم

بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…

2 hours ago

West Bengal Textbook Updates: اب بنگال کے بچے ’پانی‘ نہیں ’جل‘ پڑھیں گے، نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: گجرات کے بناس کانٹھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا روڈ شو، سڑکوں پر امڈے لوگوں نے کیا شاندار استقبال

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…

2 hours ago