قومی

PM Modi Meets Presidents of Tajikistan and Laos: وزیر اعظم مودی نے بشکیک میں تاجکستان اور لاؤس کے صدور سے کی ملاقات

بشکیک: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کرغزستان کے بشکیک میں 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے موقع پر لاؤس کے صدر تھونگ لاؤن سیسولیتھ اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔ الگ الگ ہونے والی ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی نے ایکس پوسٹ کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا، ’’بشکیک میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران لاؤ پی ڈی آر کے صدر تھونگ لاؤن سیسولیتھ سے ملاقات ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اچھی بات چیت ہوئی۔‘‘ وزیر اعظم نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے بھی ملاقات کی۔

تاجکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور

پی ایم مودی نے صدر رحمان کے ساتھ ہوئی بات چیت کا بھی ایکس پوسٹ میں ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی۔ بھارت مختلف شعبوں میں تاجکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔‘‘ اس سے قبل دن میں وزیر اعظم نے کرغزستان کے بشکیک میں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کے 26ویں اجلاس میں شرکت کی۔ ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے بھارت کے اس موقف کو دہرایا کہ تمام تنازعات کا حل جنگ کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

’تنازعات کا حل ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی سے ممکن‘

انہوں نے کہا، ’’مغربی ایشیا کے بحران نے یہ دکھایا ہے کہ کسی ایک خطے کا تنازع صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اثر پوری دنیا کی توانائی سلامتی، بحری تجارت اور سپلائی چینز پر پڑتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے بھارت کا مطالبہ رہا ہے کہ تمام کشیدگی اور جنگوں کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘‘

مشترکہ ترقی کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر زور دیا۔ عالمی پلیٹ فارم سے پی ایم مودی نے کہا، ’’بھارت ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو مارکیٹس کو جوڑتی ہیں، تجارت کو آسان بناتی ہیں اور ترقی کے نئے راستے کھولتی ہیں۔ تاہم ان کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایس سی او چارٹر کی بھی بنیادی روح ہے۔‘‘

دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے پر زور

وزیر اعظم نے دہشت گردی کو انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ، بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے ایکو سسٹم کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Ramdas Athawale Criticised Rahul Gandhi: راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کی تحریک صرف لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے ہے: رام داس اٹھاولے

مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…

8 minutes ago

Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟

سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…

9 minutes ago

Dharavi Redevelopment: دھاراوی کے دن بدلنے کی امید! ماٹونگا میں نئے بازآبادکاری مکانات کا سنگ بنیاد، اڈانی گروپ نے بڑے پروجیکٹ کا کیا آغاز

ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…

36 minutes ago

SIR Punjab-13 Lakh Names Deleted: پنجاب میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے بعد 13 لاکھ سے زائد نام خارج، حتمی فہرست جاری

تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…

2 hours ago