قومی

Bihar Politics: بانکی پور کے نوجوانوں کو روزگار دلائیں گے پرشانت کشور؟ جانئے اس اعلان کا پورا مطلب

بانکی پور سے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور نے اپنے حلقے کے نوجوانوں کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ علاقے کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔ پی کے کے اس اعلان کے بعد بہار کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نوجوانوں کو روزگار دینے کا منصوبہ کس طرح نافذ کیا جائے گا اور اس کے پیچھے روزگار کا ماڈل کیا ہوگا؟پرشانت کشور کچھ دنوں تک عوامی طور پر نظر نہیں آئے۔ اس کے بعد جب وہ سامنے آئے تو انہوں نے بانکی پور کے نوجوانوں کے حوالے سے یہ بڑا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ انتخابات کے دوران روزگار اور ملازمت کا مسئلہ بہار کے ووٹروں کے لیے انتہائی اہم رہا ہے، ایسے میں پی کے کے اعلان نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے اٹھائے سوالات

پرشانت کشور کا یہ اعلان اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعتوں کو بھی پسند نہیں آیا۔ بہار کی سیاست میں روزگار کے مسئلے پر پہلے ہی الزام تراشی اور جوابی الزام کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ایسے میں پی کے کے بیان نے سیاسی جماعتوں کو انہیں گھیرنے کا ایک نیا موقع فراہم کردیا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی یو دونوں کی جانب سے پرشانت کشور کے دعوے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ روزگار فراہم کرنا محض اعلان کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے لیے واضح منصوبہ بندی، وسائل اور طویل مدت تک چلنے والے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب پرشانت کشور کے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ان کے روزگار ماڈل سے متعلق کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سیاسی مخالفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں نوجوانوں کو روزگار کے نام پر کسی ایسے نظام میں نہ لگایا جائے جہاں ان کے مفادات کو نظر انداز کردیا جائے۔

کیا ہزاروں نوجوانوں کو روزگار دینا آسان ہوگا؟

پرشانت کشور کا اعلان یقینی طور پر بڑا اور جرات مندانہ ہے، لیکن اسے عملی شکل دینا آسان نہیں ہوگا۔ ہزاروں نوجوانوں کے لیے مستقل اور باعزت روزگار کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ سینئر صحافی سنیل پانڈے کے مطابق، سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہاں روزگار سے مراد سرکاری ملازمت، نجی شعبے میں روزگار یا خود روزگار کا ماڈل ہے، کیونکہ تینوں کی نوعیت اور طریقہ کار بالکل مختلف ہیں۔ بانکی پور جیسے بڑے اسمبلی حلقے میں نوجوانوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ ایسے میں اگر واقعی ہزاروں افراد کو روزگار دینے کا منصوبہ ہے تو اس کے لیے ٹھوس روڈ میپ پیش کرنا ہوگا۔ صرف تعداد بتانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ روزگار کے مواقع کہاں سے پیدا ہوں گے، نوجوانوں کا انتخاب کس طرح ہوگا اور انہیں کس نوعیت کی ملازمت یا کام فراہم کیا جائے گا۔اب سب کی نظریں پرشانت کشور کے اگلے قدم پر ہیں کہ وہ اپنے اعلان کو عملی منصوبے میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Reliance Share Price: ریلائنس نے 45 منٹ میں کمائے 1.29 لاکھ کروڑ روپے،پہلے منافع میں رقم کی تاریخ، اب شیئر بازار میں مچائی دھوم

ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز میں زبردست تیزی کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں…

7 minutes ago

Join BJP Ahead of 2027 Assembly Polls: پنجاب میں اسمبلی انتخابات سے پہلے عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، تین ارکانِ اسمبلی بی جے پی میں شامل

امرتسر نارتھ کے رکنِ اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار…

1 hour ago

Azam Khan: اعظم خان نے ای ڈی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج، فوری سماعت کی درخواست

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘…

2 hours ago

We have to get the Senate: سینیٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے جھونکی پوری طاقت، بولے ’ہمیں ہر حال میں جیتنا ہوگا‘

کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…

3 hours ago