نئی دہلی: اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی اہم میٹنگ سے قبل قومی دارالحکومت دہلی میں کانگریس کے خلاف بڑے پیمانے پر پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں، جنہوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان پوسٹروں میں اتحاد کی مختلف اتحادی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے پرانے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس اور اس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔پیر کو منعقد ہونے والی ’’انڈیا‘‘ بلاک کی میٹنگ سے پہلے اشوکا روڈ گول چکر، ریل بھون گول چکر، لی میریڈین گول چکر سمیت دہلی کے کئی اہم مقامات پر یہ پوسٹرز دیکھے گئے۔ پوسٹروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانگریس نے اپنے اتحادیوں کا اعتماد توڑا ہے اور اتحاد کے اندر اختلافات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ایک پوسٹر میں ڈی ایم کے رہنما اور تمل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ اُدین ندھی اسٹالن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’20 سال سے زیادہ عرصے تک کانگریس ہماری پیٹھ پر سوار ہو کر آگے بڑھتی رہی، لیکن آج اسی نے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔‘‘اسی طرح نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پوسٹر میں درج ہے کہ ’’راہل گاندھی میں تسلسل (Consistency) کی کمی ہے۔‘‘
کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈرپنارائی وجین کے نام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’راہل گاندھی قومی سطح کے لیڈر ہیں، لیکن ان میں اتنی سیاسی سمجھ بھی نہیں جتنی کانگریس کے ایک عام مقامی کارکن میں ہوتی ہے۔‘‘ترنمول کانگریس سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیانات بھی ان پوسٹروں میں نمایاں طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ ایک پوسٹر میں ان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’’کانگریس اپنی ساکھ کھو رہی ہے، ہم کانگریس پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘‘ جب کہ ایک دوسرے پوسٹر میں یہ جملہ درج ہے کہ ’’اگر کانگریس انڈیا بلاک کو نہیں چلا سکتی تو میں اسے چلا سکتی ہوں۔‘‘عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے نام سے منسوب ایک بیان بھی پوسٹروں کا حصہ بنایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’لوگ کہتے ہیں کہ ہم کانگریس کو کمزور کر رہے ہیں، لیکن میں کانگریس کو کیا کمزور کروں گا؟ راہل گاندھی اکیلے ہی یہ کام بہت اچھی طرح کر رہے ہیں۔‘‘
تمام پوسٹروں پر ایک مشترکہ نعرہ بھی درج ہے: ’’جو انڈیا الائنس والے آپس میں لڑ رہے ہیں، وہ مل کر کیا لڑیں گے؟‘‘
اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ پوسٹرز کس تنظیم یا فرد کی جانب سے لگائے گئے ہیں، تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا مقصد ’’انڈیا‘‘ بلاک کے اندر موجود اختلافات کو اجاگر کرنا اور اپوزیشن اتحاد کی یکجہتی پر سوالات کھڑے کرنا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ پوسٹرز ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اپوزیشن اتحاد مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور قومی سطح پر مشترکہ موقف طے کرنے کے لیے اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے اجلاس سے قبل سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور اتحاد کے اندرونی تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…