قومی

Politics Heats Up Over Election Results: انتخابی نتائج پر سیاست تیز، راہل گاندھی کا بڑا الزام، ‘اداروں کے سہارے لوٹے گئے الیکشن’

نئی دہلی: مغربی بنگال، کیرالہ، آسام، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے انتخابی نتائج کے درمیان لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پیر کے روز ایک بار پھر انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال میں انتخابات ’چوری‘ کیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سخت بیان
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس’ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال ایسے واضح مثالیں ہیں جہاں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے انتخابات جیتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممتا بنرجی سے متفق ہیں اور دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں 100 سے زیادہ سیٹیں ’چھینی‘ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے طریقے پہلے بھی مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دیکھے جا چکے ہیں۔

‘چناؤ چوری، ادارہ چوری‘ کا نعرہ
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا، ’’الیکشن چوری، ادارہ چوری—اب اور کیا باقی رہ گیا ہے؟” ان کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے اور مختلف جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔

ممتا بنرجی کے بھی سنگین الزامات
اس سے قبل ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے 100 سے زیادہ سیٹیں ’لوٹ‘ لی ہیں اور کہا کہ الیکشن کمیشن اب بی جے پی کا ادارہ بن چکا ہے۔ ممتا بنرجی کے مطابق یہ جیت غیر اخلاقی ہے اور الیکشن کمیشن کی کارروائیاں غیر قانونی تھیں۔

ریاستی رجحانات کی موجودہ صورتحال
ابتدائی رجحانات کے مطابق آسام میں بی جے پی حکومت بناتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ مغربی بنگال میں بڑا سیاسی الٹ پھیر نظر آ رہا ہے، جہاں ترنمول کانگریس 100 سیٹوں سے نیچے اور بی جے پی 200 سے زیادہ سیٹوں پر آگے ہے۔ تمل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی پارٹی ٹی وی کے سب سے زیادہ سیٹیں جیتتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ کیرالہ میں کانگریس کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے۔

سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
ان بیانات کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف حکمران جماعت اپنی جیت کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

10 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

10 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

11 hours ago