نئی دہلی: عام طور پر لوگوں کو لگتا ہے کہ پولیس جب چاہے کسی شخص کو گرفتار کرکے جیل بھیج سکتی ہے، لیکن قانون میں اس کے لیے واضح ضابطے موجود ہیں۔ شہریوں کے آئینی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے گرفتاری کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانے سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ پولیس کسی ملزم کو صرف زبانی طور پر گرفتاری کی وجہ بتا کر گرفتار نہیں کر سکتی۔ گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر دینا ہوگی اور اسے ایسی زبان میں فراہم کرنا ہوگا جسے ملزم آسانی سے سمجھ سکے۔
تحریری وجہ نہ بتانا پولیس افسر کو پڑ سکتا ہے مہنگا
جسٹس اجول بھویان اور جسٹس اتل ایس چندرکر کی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 22(1) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق اگر پولیس کسی شخص کو گرفتاری کی تحریری وجہ بتائے بغیر گرفتار کرتی ہے اور اس بنیاد پر عدالت گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیتی ہے تو پولیس اپنی غلطی درست کرکے اسے فوری طور پر دوبارہ گرفتار نہیں کر سکتی۔ دوبارہ گرفتاری کے لیے پولیس کو پہلے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دینی ہوگی۔ پولیس کو مجسٹریٹ کو یہ وضاحت بھی دینی ہوگی کہ پہلی مرتبہ گرفتاری کی تحریری وجہ کیوں نہیں بتائی گئی اور اب ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنا کیوں ضروری ہے۔ مجسٹریٹ جب ان دونوں نکات سے مکمل طور پر مطمئن ہوں گے، تب ہی دوبارہ گرفتاری کی اجازت دی جا سکے گی۔
لاپرواہی یا من مانی پر پولیس افسر کے خلاف کارروائی
سپریم کورٹ کی ہدایات صرف ملزمان کے حقوق سے متعلق نہیں ہیں بلکہ پولیس افسران کی جواب دہی بھی طے کرتی ہیں۔ اگر کسی پولیس افسر کی لاپرواہی کے نتیجے میں گرفتاری غیر قانونی قرار پاتی ہے تو اس کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ تحقیقات میں افسر کو قصوروار پائے جانے کی صورت میں اس کے سروس ریکارڈ میں ناموافق تبصرہ بھی درج کیا جائے گا۔
دوبارہ گرفتاری کی صورت میں نیا تفتیشی افسر مقرر ہوگا
فیصلے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کیس کی مزید تفتیش وہی پرانا افسر نہیں کرے گا۔ سینئر پولیس افسران کو کیس کی تفتیش کسی دوسرے غیر جانب دار پولیس افسر کے حوالے کرنی ہوگی، تاکہ تفتیش کے عمل کی شفافیت برقرار رہے۔
گرفتاری کے لیے پولیس کو کن 5 اصولوں پر عمل کرنا ہوگا؟
سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق گرفتاری کے معاملے میں اہم طور پر ان پانچ نکات پر عمل کرنا ہوگا:
گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا۔
اگر پہلی گرفتاری میں ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کی وجہ بتانا۔
متعلقہ سینئر افسر سے ضروری منظوری حاصل کرنا۔
دوبارہ گرفتاری کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ سے اجازت لینا۔
دوبارہ گرفتاری کی صورت میں نیا تفتیشی افسر مقرر کرنا۔
سپریم کورٹ کی ان ہدایات کا مقصد گرفتاری کے عمل میں قانونی تقاضوں اور شہریوں کے آئینی حقوق کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا کی مبینہ چوری کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، سالیسٹر جنرل…
پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین…
پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…
اکھلیش یادو کی موجودگی میں لیڈروں کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ، دونوں اضلاع…
دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد…