نئی دہلی، 27 مارچ: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں ایندھن کی سپلائی، مہنگائی، لاجسٹکس اور ریاستوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کا مقصد بحران کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا بتایا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں ان ریاستوں کو شامل نہیں کیا گیا جہاں اس وقت انتخابات جاری ہیں یا ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان ریاستوں کے چیف سکریٹریز کے لیے کابینہ سکریٹریٹ کی جانب سے علیحدہ میٹنگ منعقد کی جائے گی تاکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ ہو اور انتظامی سطح پر تیاریوں کا جائزہ بھی لیا جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے حوالے سے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ براہ راست میٹنگ کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ کا بنیادی مقصد “ٹیم انڈیا” کے جذبے کے تحت تمام ریاستوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق کرنا ہے، تاکہ بحران کے ممکنہ اثرات کو کم کیا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے۔ اس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتا ہے۔
میٹنگ کے دوران وزیر اعظم مودی نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ ایندھن کی دستیابی، ضروری اشیاء کی سپلائی اور قیمتوں پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ریاستوں سے کہا کہ وہ مقامی سطح پر سپلائی چین کو مضبوط بنائیں اور عوام میں افواہوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ وزیر اعظم مودی نے اس سے قبل پیر کے روز لوک سبھا میں بھی مشرق وسطیٰ کے بحران پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں اور حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے اس بحران کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی، قومی اور انسانی سلامتی سے متعلق چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے جاری کشیدگی نے بھارت کے سامنے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ اس معاملے پر متحدہ موقف اختیار کیا جائے تاکہ عالمی سطح پر بھارت کی مضبوط آواز سامنے آ سکے۔ بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے بعد سے دنیا مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، لیکن 140 کروڑ بھارتیوں کی مشترکہ کوششوں سے ملک ہر بحران کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال میں بھی بھارت متحد ہو کر چیلنجز کا سامنا کرے گا اور کامیابی حاصل کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…