فائل فوٹو: اے پی
وزیراعظم نریندر مودی کا اپریل کے آخر میں متوقع سعودی عرب کا دورہ، بدلتی عالمی سیاست کے تناظر میں، ہند-سعودی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا ٹرمپ کے ٹیرف اور تجارتی جھٹکوں، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے قرض جال اور روس-یوکرین جنگ کی پیچیدگیوں سے جوجھ رہی ہے۔
اس دورے میں وزیراعظم مودی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان تجارت، توانائی، سلامتی، دفاع، سرمایہ کاری، ثقافت، عوامی روابط، اور خطے میں رابطہ کاری جیسے اہم شعبوں پر بات چیت متوقع ہے۔ خاص طور پر دونوں رہنما انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کاریڈور (IMEC) پر توجہ مرکوز کریں گے، جس کی بنیاد ابراہم معاہدوں کے تحت ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں رکھی گئی تھی۔ ٹرمپ کے بعد اس منصوبے کی رفتار سست ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ کی دوبارہ جیت یہ منصوبہ پھر سے زندہ ہو جانے کی امید ہے۔
سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ سے زائد ہندوستانیوں پر مشتمل برادری دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم انسانی و ثقافتی ذریعہ ہے۔ مودی حکومت نے اس ’’نرم طاقت‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔ 2016 اور 2019 میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ سعودی عرب نے ہندوستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے تھے۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے سعودی عرب میں تجارت، ثقافت، اور کاروبار کے نئے راستے دریافت کیے ہیں۔
محمد بن سلمان کا وژن 2030 سعودی عرب کو جدید اور متنوع معیشت کی جانب لے جا رہا ہے۔ اس وژن کے تحت نیوم سٹی جیسے جدید منصوبے زیر تعمیل ہیں اور اگر IMEC پایہ تکمیل کو پہنچا تو خطے کی معیشت میں ایک مثبت انقلاب آ سکتا ہے۔ توانائی پر بڑھتا انحصار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے محمد بن سلمان معیشت کو تنوع بخشنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، جب کہ وزیر اعظم مودی ہندوستان کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔
ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1947 میں ہوا۔ 1970 کی دہائی میں تیل کے بوم نے بھارتی مزدوروں کے لیے مواقع پیدا کیے۔ 2006 میں دہلی ڈیکلریشن اور 2010 میں ریاض ڈیکلریشن کے بعد تعلقات میں مزید گہرائی آئی۔ 2016 میں مودی کے دورے سے ان تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ انھیں سعودی عرب کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’’کنگ عبدالعزیز ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ 2019 میں محمد بن سلمان نے ہندوستان میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے۔
2023-24 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 42.98 ارب ڈالر رہا، جس میں ہندوستان کی برآمدات 11.56 ارب ڈالر اور درآمدات 31.42 ارب ڈالر تھیں۔ ہندوستان کی تیل کی ضروریات کا 14.3 فیصد سعودی عرب سے آتا ہے جب کہ LPG کی ضروریات کا 18.2 فیصد حصہ سعودی عرب پورا کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حال ہی میں سعودی عرب نے Munitions India Ltd. (MIL) سے 225 ملین ڈالر کی دفاعی برآمدات کا معاہدہ کیا ہے۔
دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات بھی لگاتار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب اب زیادہ ہم آہنگ معاشرہ بننے کی جانب گامزن ہے۔ خواتین کی کاروباری اور سماجی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یوگا جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر سعودی عرب میں مقبول ہو رہے ہیں۔ سعودی خاتون نوف المرواوی کو یوگا کے فروغ پر پدم شری سے نوازا گیا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے اور سعودی وزارتِ کھیل نے 2024 میں 10واں بین الاقوامی یوگا ڈے بھی منایا، جس کی قیادت ایک سعودی خاتون نے کی تھی۔
وزیر اعظم مودی کا یہ مجوزہ دورہ ان کا تیسرا دورۂ سعودی عرب ہوگا، امید ہے کہ اس سے نہ صرف تجارتی و دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ ثقافتی اور انسانی روابط بھی گہرے ہوں گے۔ مغربی ایشیا کی موجودہ کشیدہ صورت حال، ایران، حماس، حوثیوں، اور حزب اللہ جیسے عوامل کے باعث سعودی عرب کے لیے ایک مستحکم دفاعی شراکت دار کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے اور ہندوستان اس تناظر میں ایک اہم اتحادی بن کر ابھرا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس دورے سے بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کا نیا باب رقم ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…