قومی

PM Modi’s Meeting With Ministers: پی ایم مودی کی وزرا کے ساتھ میراتھن میٹنگ، کارکردگی سے لے کر سوشل میڈیا تک کا جائزہ

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی دیر رات تک مرکزی وزرا کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل میراتھن میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں وزارتی کونسل کے تقریباً 20 وزرائے مملکت شریک ہوئے۔ میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزرا کے علاوہ اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزرا اور آزادانہ چارج رکھنے والے وزرائے مملکت بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ کابینہ میں ردوبدل کی قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر اعظم کی جانب سے وزرا کے ساتھ کی گئی یہ میٹنگ سیاسی اور انتظامی دونوں اعتبار سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں کے کام کاج، وزرا کی کارکردگی، سرکاری اسکیموں کے اثرات اور حکومت کی آئندہ ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعداد و شمار نہیں، اپنی ذاتی کارکردگی بتائیں

میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے وزرا کی ذاتی کارکردگی اور ان کے کردار پر خاص زور دیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے وزرا سے کہا کہ صرف وزارت کی کامیابیوں اور اعداد و شمار کو پیش کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وزارت کی کارکردگی میں ان کا اپنا کیا کردار رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ وزارت سے متعلق اعداد و شمار اور رپورٹس تو متعلقہ سکریٹری بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ایسے میں وزیر کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے خود کیا نیا قدم اٹھایا، کون سے اہم فیصلے ان کی نگرانی یا کوششوں سے ہوئے اور ان فیصلوں سے عام لوگوں کو کتنا فائدہ پہنچا۔ وزرا سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان کی وزارت کی مختلف اسکیموں سے کتنے لوگوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئی ہے۔ اس طرح حکومت کی توجہ صرف اسکیموں کے نفاذ اور سرکاری اعداد و شمار پر نہیں بلکہ زمینی سطح پر ان کے حقیقی اثرات کی پیمائش پر بھی مرکوز دکھائی دی۔

’وکست بھارت 2047‘ کے لیے وژن اور روڈ میپ

اجلاس میں ’وکست بھارت 2047‘ یعنی 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے وزرا سے اپنے اپنے محکموں کے لیے واضح وژن اور روڈ میپ پیش کرنے کو کہا۔ وزرا سے اگلے پانچ برسوں کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ 2047 تک کی طویل مدتی حکمت عملی کے بارے میں بھی معلومات لی گئیں۔ اس دوران یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مختلف وزارتیں ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور ان کی موجودہ اسکیموں کا مستقبل میں کیا اثر ہوگا۔ وزارتوں کی طویل مدتی ترجیحات، منصوبوں کی سمت اور عوام پر ان کے ممکنہ اثرات کو بھی جائزے کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت موجودہ منصوبوں کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر بھی زور دے رہی ہے۔

سماجی انصاف اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ

میٹنگ میں سماجی انصاف، قبائلی بہبود، نوجوانوں اور تعلیم جیسے اہم شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ وزرا سے پوچھا گیا کہ دلتوں، پسماندہ طبقات، قبائلی برادریوں اور نوجوانوں کے لیے ان کی وزارتوں کی جانب سے کون سی خصوصی پہل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان اقدامات اور اسکیموں کا فائدہ ان طبقات تک کس حد تک پہنچ رہا ہے جنہیں ان کے لیے ہدف بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور نظر آیا کہ حکومت فلاحی اسکیموں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ان کے سماجی اثرات، عوامی شمولیت اور زمینی سطح پر نتائج کو بھی اہمیت دینا چاہتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں کو مستقبل کی ترجیحات کے ساتھ جوڑنے پر توجہ دی گئی۔

وزرا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ

وزرا کی سوشل میڈیا سرگرمی بھی میٹنگ کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔ وزیر اعظم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وزرا حکومت کی اسکیموں، پالیسیوں اور اہم مسائل سے متعلق معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے عام لوگوں تک کس انداز میں پہنچا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزرا سے ان کے سوشل میڈیا فالوورز، ڈیجیٹل انگیجمنٹ اور حکومتی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ طلبہ سے متعلق تحریکوں اور اپوزیشن کی جانب سے قائم کیے جانے والے مختلف بیانیوں کا سوشل میڈیا پر کس طرح جواب دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرا کو ان کی سوشل میڈیا کارکردگی کا ’رپورٹ کارڈ‘ بھی دیا گیا۔ تاہم، کسی بھی وزیر مملکت کی سوشل میڈیا کارکردگی کو مکمل طور پر اطمینان بخش قرار نہیں دیا گیا اور تمام وزرا کو اپنی ڈیجیٹل موجودگی اور عوام سے آن لائن رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت بتائی گئی۔

تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ کا مجموعی پیغام یہ رہا کہ کسی وزیر کی ذمہ داری صرف اس کی وزارت کے انتظامی امور تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کی توجہ وزرا کی ذاتی جواب دہی، وژن، عوام سے براہ راست رابطے اور ڈیجیٹل موجودگی کو مضبوط بنانے پر رہی۔ حکومت کے نقطۂ نظر سے اب کسی وزیر کی کارکردگی کا جائزہ صرف وزارت کی کامیابیوں یا سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے ذاتی کردار، عوامی رابطے، منصوبہ بندی اور مستقبل کے لیے وژن کی بنیاد پر بھی لیا جا رہا ہے۔

کابینہ میں ردوبدل کی قیاس آرائیوں کے درمیان اہم میٹنگ

وزیر اعظم کی وزرا کے ساتھ یہ میراتھن میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مرکزی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اگرچہ میٹنگ کا باضابطہ مرکز وزرا کے کام کاج اور کارکردگی کا جائزہ تھا، لیکن سیاسی حلقوں میں اسے کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ فی الحال اجلاس سے سب سے اہم اشارہ یہی ملتا ہے کہ حکومت کے اگلے مرحلے میں صرف سرکاری منصوبوں کی تکمیل اور اعداد و شمار پیش کرنا کافی نہیں ہوگا۔ وزرا کی ذاتی کارکردگی، عوامی رابطہ، زمینی سطح پر اسکیموں کا اثر، مستقبل کی منصوبہ بندی اور سوشل میڈیا پر مؤثر موجودگی بھی ان کی مجموعی کارکردگی جانچنے کی اہم کسوٹی بن سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…

3 hours ago

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

3 hours ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

4 hours ago