ملک کے بنیادی ڈھانچے یعنی فاؤنڈیشنل انفراسٹرکچر کو نئی رفتار دینے کے لیے مرکزی حکومت نے بدھ کے روز کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی مرکزی کابینہ کی اہم میٹنگ میں ملک کی ترقی سے متعلق 5 بڑے میگا پروجیکٹس کو منظوری دے دی گئی۔ ان تمام منصوبوں پر مجموعی طور پر 13,041 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔کابینہ کے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے اور اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں مال برداری اور مسافروں کے سفر کو مزید آسان اور تیز بنانے میں مدد ملے گی۔
4 ریلوے پروجیکٹس کو منظوری
ہاوڑہ-چنئی 4 لین ریلوے روٹ: ملک کے مصروف ترین اور اہم ریلوے روٹس میں شامل اس راستے پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے ریلوے لائن کی چوتھری کاری کو منظوری دی گئی ہے۔ اس کے تحت کھڑگپور-بھدرک اور بھدرک-ہری داس پور سیکشنز پر 4 لین ٹریک بچھائے جائیں گے۔کٹک-پارادیپ ریلوے لائن: صنعتی اور بندرگاہی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے کٹک-پارادیپ روٹ پر تیسری اور چوتھی ریلوے لائن بچھانے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس سے مال برداری کے ساتھ ساتھ بندرگاہ تک سامان کی آمد و رفت میں بھی تیزی آنے کی امید ہے۔دیگر ریلوے منصوبے: ریلوے نیٹ ورک کی گنجائش بڑھانے اور ٹرینوں کی رفتار بہتر بنانے کے مقصد سے دو دیگر ریلوے روٹس کی جدید کاری کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں سے موجودہ نیٹ ورک پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور سفر کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
بہار سے نیپال سرحد تک بہتر کنیکٹیویٹی
پانچواں بڑا منصوبہ سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی وے سے متعلق ہے، جس کا براہِ راست فائدہ بہار کو ملے گا۔ اس منصوبے کے تحت بہار میں مظفرپور سے سیتامڑھی ہوتے ہوئے نیپال سرحد پر سونبرسا تک جانے والی پوری سڑک کو فور لین بنایا جائے گا۔اس ہائی وے کی تعمیر سے شمالی بہار میں تجارتی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی بھارت-نیپال سرحد تک آمد و رفت اور رابطہ بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ بہتر سڑک رابطے سے مقامی کاروبار، تجارت اور نقل و حمل کے شعبے کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
ملک کی اقتصادی ترقی کو ملے گی نئی رفتار
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ ان پانچوں میگا پروجیکٹس کی تکمیل سے نہ صرف لاجسٹکس کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ کروڑوں لوگوں کے سفر کا وقت بھی کم ہوگا۔ ماحول دوست اور زیادہ گنجائش والے جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے حکومت ملک میں رابطے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ان منصوبوں سے ریلوے اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی گنجائش میں اضافہ ہوگا، جس سے مسافروں کے ساتھ ساتھ صنعت اور تجارت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق جدید اور مضبوط کنیکٹیویٹی ہی ’وکست بھارت‘ کی بنیاد کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے…
پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل…
مظفر نگر کے طالب کو میرٹھ کی ذاکر کالونی میں قتل کیا گیا، بیوی علمہ…
ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…
انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300…