نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر یومِ جمہوریہ کے موقع پر پروٹوکول سے ہٹ کر عوام سے براہِ راست ملاقات کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ 77ویں یومِ جمہوریہ کی شاندار تقریب کے اختتام کے بعد وزیر اعظم مودی پروٹوکول سے الگ ہو کر کرِتویہ پتھ پر کافی فاصلے تک پیدل چلتے ہوئے نظر آئے۔ اس دوران انہوں نے تماشائی گیلریوں میں موجود شہریوں کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا اور ان کے جذبات کا جواب دیا۔ وزیر اعظم کو اپنے درمیان پا کر عوام میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ ہاتھوں میں ترنگا تھامے شہریوں نے ”بھارت ماتا کی جے“ کے نعروں کے ساتھ وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ کئی بچے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر مسکراتے ہوئے وزیر اعظم کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب دکھائی دیے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی ہاتھ ہلا کر لوگوں کے جذبات کا جواب دیا، جس پر موجودہ ہجوم نے تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
بعد ازاں وزیر اعظم اپنی گاڑی میں سوار ہوئے اور کرتویہ پتھ پر آگے بڑھتے ہوئے دونوں اطراف موجود شہریوں کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔ اس دوران تماشائی گیلریوں میں ”مودی مودی“ کے نعرے گونجتے رہے۔ وزیر اعظم نے کرِتویہ پتھ کے دوسرے حصے میں بھی جا کر عوام سے ملاقات کی، جہاں پرجوش شہریوں نے اس تاریخی لمحے کو اپنے موبائل فون اور کیمروں میں محفوظ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے روایتی سرخ رنگ کی پگڑی پہن رکھی تھی، جس پر سنہری نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ یومِ جمہوریہ پر منفرد پگڑی پہننا وزیر اعظم کی پہچان بن چکا ہے اور ہر سال یہ پگڑی ثقافتی علامت کے طور پر خاص توجہ حاصل کرتی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2015 سے مسلسل یومِ جمہوریہ کے بعد پروٹوکول توڑ کر عوام سے براہِ راست ملاقات کرتے آ رہے ہیں۔ اس روایت کو عوامی رابطے اور جمہوری اقدار کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے قبل یومِ جمہوریہ کی تقریبات کا آغاز وزیر اعظم کے قومی جنگی یادگار کے دورے سے ہوا، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھا کر ملک کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ادھر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو یورپی کونسل کے صدر اور یورپی کمیشن کی صدر کے ہمراہ روایتی بگھی میں سوار ہو کر کرِتویہ پتھ پہنچیں۔ ان کے ساتھ صدر کے محافظ دستے موجود تھے، جو بھارتی فوج کی قدیم ترین رجمنٹ سمجھی جاتی ہے۔ صدر مرمو نے کرِتویہ پتھ سے یومِ جمہوریہ کی تقریب کی قیادت کی، جبکہ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک رہیں۔
اس سال کرِتویہ پتھ پر منعقدہ یومِ جمہوریہ کی تقریب میں قومی ترانے وندے ماترم کے ایک سو پچاس سال، بھارت کی غیر معمولی ترقی، مضبوط فوجی طاقت اور بھرپور ثقافتی تنوع کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ روایت کے مطابق قومی پرچم لہرایا گیا اور اس کے بعد 105 ملی میٹر لائٹ فیلڈ گن سے اکیس توپوں کی سلامی دی گئی، جو ملک میں تیار کردہ توپ خانہ نظام ہے۔ پہلے اکیس توپوں کی سلامی کے لیے برطانوی دور کی 25 پاؤنڈر توپیں استعمال ہوتی تھیں، مگر اب 172 فیلڈ رجمنٹ کی 1721 سیرمونیل بیٹری یہ فریضہ انجام دے رہی ہے۔ پریڈ میں بھارتی فوج کی طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا گیا، جہاں ٹی۔90 بھیشم اور ارجن ٹینک، بی ایم پی۔2 سارتھک، مختلف میزائل نظام، دھرو، رودر، اپاچی اور پرچنڈ ہیلی کاپٹر، آکاش، ایم آر ایس اے ایم اور برہموس میزائل سسٹم عوام کے سامنے پیش کیے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…