قومی

PM Modi Visit Uzbekistan-Kyrgyzstan: وسطی ایشیا میں بھارت کی بڑی سفارتی پیش قدمی، پی ایم مودی کے ازبکستان اور کرغزستان دورے سے تعلقات کو ملے گی نئی سمت

وزیر اعظم نریندر مودی کا آئندہ وسطی ایشیا کا دورہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم 28 اگست 2026 کو ازبکستان کے سرکاری دورے پر جائیں گے۔ اس کے بعد وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 26ویں سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارت وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی، تجارت، توانائی اور رابطے کے شعبوں میں اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔

ایس سی او کے ذریعے بھارت کی ترجیحات

اس سال SCO سربراہی اجلاس کا موضوع ہے— ’25 Years of the SCO: Together Towards Sustainable Peace, Development and Prosperity‘، یعنی تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی سمت میں مل کر آگے بڑھنا۔

ایس سی او بھارت کے لیے محض سلامتی سے متعلق پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس کے ذریعے بھارت کو چین، روس، ایران، وسطی ایشیا اور یوریشیا کے دیگر اہم ممالک کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی سلامتی، توانائی، تجارت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اقتصادی تعاون اور رابطے جیسے معاملات بھارت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔وزیر اعظم مودی اس پلیٹ فارم پر بھارت کی ان ترجیحات کو بھی مضبوطی سے سامنے رکھ سکتے ہیں، جن میں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سخت موقف، اقتصادی ترقی، وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بہتر رابطہ اور تمام ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام شامل ہے۔

بھارت کی کوشش رہی ہے کہ ایس سی او میں وسطی ایشیا کا کردار مضبوط ہو اور تنظیم کا دائرہ صرف سلامتی سے متعلق معاملات تک محدود نہ رہے۔ ڈیجیٹل معیشت، اسٹارٹ اپس، مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھارت کا تجربہ ایس سی او کے دیگر ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو ملے گی نئی رفتار

وزیر اعظم مودی کا ازبکستان دورہ بھی کئی لحاظ سے اہم ہے۔ 2015 کے بعد یہ ان کا دوسرا سرکاری دورہ ہوگا۔ اگرچہ وزیر اعظم 2016 میں تاشقند اور 2022 میں سمرقند میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان جا چکے ہیں، لیکن اس بار کا دورہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ازبکستان وسطی ایشیا میں بھارت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سال دو طرفہ تجارت تقریباً 1.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

بھارت اور ازبکستان کے درمیان تعاون اب روایتی شعبوں سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی، سیاحت اور عوامی سطح پر رابطے بڑھانے جیسے شعبوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ ویزا کے عمل کو آسان بنانا بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

توانائی اور رابطے پر بھی نظر

وسطی ایشیا بھارت کے لیے صرف سفارتی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ توانائی اور رابطے کے لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے۔ بھارت طویل عرصے سے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی اور ٹرانسپورٹ رابطے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات بھارت کو توانائی کے تحفظ، اہم معدنیات اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت ایسے رابطوں کی حمایت کرتا ہے جو متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔

برکس کے لیے بھی اہم ہے مودی کا دورہ

وزیر اعظم مودی کے وسطی ایشیا کے دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ بھارت ستمبر میں نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ ازبکستان اور قازقستان کے رہنماؤں کی برکس سے متعلق شمولیت اور ممکنہ نئی دہلی آمد کے درمیان بھارت اور وسطی ایشیا کے تعلقات کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔بھارت ایس سی او اور برکس جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارمز کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو ایک وسیع تر فریم ورک میں آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اس سے بھارت کی علاقائی اور عالمی سفارت کاری کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Delhi Air Quality: دہلی کی ہوا پھر ہوئی زہریلی، اکتوبر کا پہلا ہفتہ 3 سال میں سب سے زیادہ آلودہ، اوسط اے کیو آئی 171 ریکارڈ

مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…

19 minutes ago

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

58 minutes ago

Smriti Mandhana: کپتانی ملنے کے بعد اسمرتی مندھانا کا ہرمن پریت کور کے نام پیغام، کہا- مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…

1 hour ago

Ajit Agarkar Farewell: ’تاریخ آپ کے ساتھ زیادہ نرمی برتے گی‘، اگرکر کی رخصتی پر گمبھیر کے ایک جملے نے کھینچی توجہ

اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…

1 hour ago

CM Hemant Soren Mother Passes Away: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی والدہ روپی سورین کا انتقال، سیاسی حلقوں میں سوگ کی لہر

روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…

2 hours ago

Russia-Ukraine War: روس کا بڑا فضائی حملہ، کیف سمیت 12 علاقوں میں تباہی، 4 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…

2 hours ago