وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 20 اور 21 دسمبر کو دو روزہ دورے پر آسام جائیں گے، جہاں وہ ریاست کو بنیادی ڈھانچے، کنیکٹیویٹی اور زرعی ترقی سے جڑے تقریباً 15,600 کروڑ روپے کے بڑے منصوبوں کا تحفہ دیں گے۔ اس دورے کو آسام کی مجموعی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 20 دسمبر کو دوپہر تقریباً 3 بجے وزیر اعظم مودی گوہاٹی پہنچیں گے، جہاں وہ گوپی ناتھ باردولوئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل عمارت کا معائنہ اور افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر وہ ایک عظیم الشان عوامی اجتماع سے بھی خطاب کریں گے۔ حکومت کے مطابق یہ نیا ٹرمینل آسام کی فضائی کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ریاست کی اقتصادی سرگرمیوں اور عالمی رابطے کو نئی رفتار دے گا۔
تقریباً 1.4 لاکھ مربع میٹر میں تعمیر کیا گیا یہ جدید اور مربوط ٹرمینل ہر سال 1.3 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت رن وے، ایئر فیلڈ سسٹمز، ایپرن اور ٹیکسی ویز میں بھی بڑے پیمانے پر جدید کاری کی گئی ہے، جس سے ہوائی اڈے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ ٹرمینل بھارت کا پہلا ایسا ہوائی اڈہ ہے جو قدرتی موضوع پر مبنی ہے۔ اس کا مرکزی خیال ’’بانس کا باغ‘‘ رکھا گیا ہے، جو آسام کی حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمینل کی تعمیر میں شمال مشرقی خطے سے حاصل کردہ تقریباً 140 میٹرک ٹن بانس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں کازیرنگا سے متاثر سرسبز مناظر، جاپی کی شکلیں، مشہور گینڈے کی علامت اور کوپو پھول سے متاثر 57 باغیچے نما ستون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک منفرد ’’آکاش ون‘‘ بھی تیار کیا گیا ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ مقامی پودے لگائے گئے ہیں، جو مسافروں کو جنگل جیسا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
نئے ٹرمینل میں مسافروں کی سہولت کے لیے جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تیز اور آسان سیکیورٹی جانچ کے لیے فل باڈی اسکینرز، ڈیجی یاترا سے جڑی کنٹیکٹ لیس سہولت، خودکار سامان مینجمنٹ، تیز رفتار امیگریشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ایئرپورٹ آپریشنز شامل ہیں، جو محفوظ اور ہموار سفر کو یقینی بناتے ہیں۔ 21 دسمبر کو صبح تقریباً 9:45 بجے وزیر اعظم گوہاٹی کے بوراگاؤں میں واقع شہید اسمارک علاقے میں جا کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ یہ وہ شہداء ہیں جنہوں نے تاریخی آسام تحریک کے دوران اپنی جانیں قربان کیں، جو غیر ملکیوں سے پاک آسام اور ریاستی شناخت کے تحفظ کے لیے چھ برس تک جاری رہی۔
اس کے بعد وزیر اعظم آسام کے ضلع ڈبروگڑھ کے نامروپ پہنچیں گے، جہاں وہ برہم پتر وادی فرٹیلائزر کارپوریشن لمیٹڈ کے موجودہ کیمپس میں نئی براؤن فیلڈ امونیا–یوریا فرٹیلائزر منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور ایک جلسے سے خطاب کریں گے۔ 10 ہزار 600 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ وزیر اعظم کے کسان فلاحی وژن کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس سے آسام اور پڑوسی ریاستوں کی کھاد کی ضروریات پوری ہوں گی، درآمدات پر انحصار کم ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔ یہ منصوبہ صنعتی احیاء اور کسانوں کی خوشحالی کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
’کافی ود کرن‘ میں رشمیکا مندانا اور وجے دیورکونڈا نے شادی اور نجی زندگی سے…
اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے…
کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے کر کیمپس میں معمولات بحال…
دہلی پولیس کے بانڈ نوٹس کو نیہا بورا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، رہائی…
ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد…
دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ، ووٹ چوری معاملے…