قومی

PM Modi targets TMC in Ranaghat address: مغربی بنگال کو بھی ’جنگل راج‘ سے نجات دلانا ہوگی، ورچوئل خطاب میں وزیراعظم مودی کا ٹی ایم سی پر حملہ

کولکاتا: وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’جس طرح بہار نے جنگل راج کو مسترد کیا، اسی طرح مغربی بنگال کو بھی جنگل راج سے آزاد کرانا ہوگا۔‘‘ وہ راناگھاٹ کے طاہرپور نیتاجی پارک میں ایک عوامی اجتماع سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔ خراب موسم اور کم حد نگاہ کے باعث وزیر اعظم کا ہیلی کاپٹر طاہرپور ہیلی پیڈ پر لینڈ نہ کر سکا، جس کے بعد انہیں کولکاتا ایئرپورٹ واپس لوٹنا پڑا۔

بہار کی مثال، بنگال کے لیے پیغام

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے بہار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک تیز رفتار ترقی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بہار نے ایک بار پھر ترقی کے لیے این ڈی اے حکومت کو زبردست مینڈیٹ دیا ہے۔ بہار نے ایک آواز میں جنگل راج کو مسترد کر دیا۔ بیس برس بعد بھی وہاں بی جے پی-این ڈی اے کو پہلے سے زیادہ نشستیں ملیں۔ اب مغربی بنگال میں بھی جنگل راج کا خاتمہ ضروری ہے۔‘‘

ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بی جے پی کو سیاسی مخالفت پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ریاست کی ترقی کو روکنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ٹی ایم سی بی جے پی کی جتنی چاہے مخالفت کرے، ہمیں اس پر اعتراض نہیں، لیکن مغربی بنگال کی ترقی میں رکاوٹ کیوں ڈالی جا رہی ہے؟ آپ مودی کی مخالفت کریں، مگر بنگال کے عوام کو ناخوش نہ کریں، ان کے حقوق نہ چھینیں اور ان کے خوابوں کو توڑنے کا گناہ نہ کریں۔‘‘ انہوں نے عوام سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو ایک موقع دیں۔

’ڈبل انجن حکومت‘ کی ضرورت

وزیراعظم نے ریاست میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگال کی کھوئی ہوئی عظمت بحال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ریاست میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے رکے ہوئے ہیں۔

دراندازی کے معاملے پر ٹی ایم سی پر الزام

وزیر اعظم نے ترنمول کانگریس پر مغربی بنگال میں دراندازوں کو تحفظ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی ’’گو بیک مودی‘‘ کے نعرے لگاتی ہے، مگر ’’گو بیک گھس پیٹھیے‘‘ کہنے سے گریز کرتی ہے۔ ان کے مطابق، خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کی مخالفت دراندازوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے، جن کا مقصد ریاست پر قبضہ کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مرکز کی کوشش ہے کہ مغربی بنگال کے ان علاقوں کو بھی ترقی کے دائرے میں لایا جائے جو طویل عرصے سے محروم رہے ہیں۔

3,200 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے

اس موقع پر وزیر اعظم نے 3,200 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ اہم منصوبوں میں قومی شاہراہ 34 پر براجاگولی–کرشن نگر کے درمیان 66.7 کلومیٹر طویل چار لین سڑک اور براسات–برا جاگولی سیکشن کو چار لین کرنے کے منصوبے کی بنیاد شامل ہے جس سے کولکاتا اور سلی گڑی کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP SIR: یوپی میں ایس آئی آر کے بعد بھی ایک ووٹر کے نام پر چار چار ووٹر کارڈ! کیسے بن رہے ڈپلیکیٹ کارڈ؟

اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے…

1 hour ago

Neha Bora Move Delhi HC: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا دہلی ہائی کورٹ پہنچیں، پولیس پر لگائے سنگین الزامات

دہلی پولیس کے بانڈ نوٹس کو نیہا بورا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، رہائی…

2 hours ago

Congress rejects ‘regime change’ allegations: ’’ہندوستان نہ بنگلہ دیش ہے، نہ فرانس‘‘ کانگریس نے اقتدار کی تبدیلی کی سازش کے الزامات  کیے مسترد

ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد…

2 hours ago

Delhi Protests Business Losses: ووٹ چوری کے خلاف مظاہروں سے دہلی کے کاروبار کو 3000 کروڑ روپے کا نقصان، سی ٹی آئی نے حکومت سے کیا یہ مطالبہ

دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ، ووٹ چوری معاملے…

3 hours ago